مختصر جواب
کتراس کول فیلڈ میں مسلسل زمین دھنسنے سے 14 اموات ہوئی ہیں، اور حالیہ حادثے کے بعد حفاظتی انتظامات پر دوبارہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
اہم نکات
- کتراس کول فیلڈ میں زمین دھنسنے کے واقعات سے 14 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
- 6 ستمبر 2025 کو سروس وین تقریباً 400 فٹ گہری کھائی میں گر گئی تھی۔
- اس حادثے میں 7 آؤٹ سورسنگ ملازمین کی موت ہوئی تھی۔
- حادثے کے بعد کمپنی کا کام بند اور کئی افسران کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔
- جھارکھنڈ اسمبلی کمیٹی کی ٹیم بھی متاثرہ علاقے کا دورہ کرچکی ہے۔
- مقامی لوگ حساس علاقوں کی نگرانی، گھیرا بندی اور حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
جھارکھنڈ کے کتراس کول فیلڈ میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات نے لوگوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ستمبر 2025 سے ستمبر 2026 کے درمیان زمین دھنسنے کے حادثوں میں اب تک 14 افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ درجنوں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ کئی گھر تباہ ہو چکے ہیں اور سیکڑوں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے۔ اتوار کے روز پیش آئے حادثے نے حفاظتی انتظامات کی صورتحال پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ بٹو بابو بنگلہ-کمہار پٹی علاقے میں زمین دھنسنے کا واقعہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 6 ستمبر 2025 کو اسی علاقے کے انگارپتھرا کانٹاپہاڑی میں واقع ماں امبے آؤٹ سورسنگ پروجیکٹ میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی۔ اس دوران آؤٹ سورسنگ کمپنی کی سروس وین تقریباً 400 فٹ گہری کھائی میں گر گئی تھی۔ اس حادثے میں 7 آؤٹ سورسنگ ملازمین کی موت ہوئی تھی۔ مہلوکین میں امن سنگھ، گیاسر داس، راہل روانی، روپک مہتو، سوروپ گوپ، امت بگال سمیت ایک دیگر ملازم شامل تھے۔
خبر کے مطابق بٹو بابو بنگلہ-کمہار پٹی علاقے میں ہوئی لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ایک بڑی چٹان بھی کھسک گئی تھی، اور اس کی زد میں آکر سروس وین گہری کھائی میں گری تھی۔ حادثے کے بعد متعلقہ کمپنی کا کام بند کر دیا گیا تھا اور کئی افسران کے خلاف کارروائی بھی ہوئی تھی۔ حادثے کے بعد امید تھی کہ علاقے میں پختہ حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے، لیکن بٹو بابو بنگلہ اور قریبی علاقوں میں زمین دھنسنے کا خطرہ ختم نہیں ہوا۔ اکثر و بیشتر زمین دھنسنے اور ملبہ گرنے کے حادثے پیش آتے رہتے ہیں۔ کئی حادثوں میں لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ملی ہے۔ علاقے کی سنگین صورتحال دیکھتے ہوئے جھارکھنڈ اسمبلی کمیٹی ٹیم بھی علاقے کا دورہ کرچکی ہے۔ اس کے باوجود اتوار کے حادثے نے ایک بار پھر پرانے حادثات کی یاد تازہ کر دی ہے اور اور حفاظتی انتظامات پر سوال کھڑے کیے ہیں۔ کتراس کول فیلڈ میں گزشتہ ایک سال میں مختلف مقامات پر زمین دھنسنے کے کئی حادثے پیش آئے ہیں۔
6 ستمبر 2025 کو پیش آئے حادثے کے بعد 31 مارچ 2026 سونار ڈیہہ کے ٹنڈا باڑی میں زمین دھنسنے کے حادثے میں والد اور بیٹی سمیت 3 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ اس کے بعد 23 اپریل 2026 ٹنڈا باڑی بستی میں پھر زمین دھنسنے کا حادثہ پیش آیا ہے۔ 3 جون 2026 کو راجا کوٹھی میں بھی زمین دھنسنے کی وجہ سے تقریباً 6 مکانات زد میں آئے۔ اس کے ایک ماہ بعد ہی 7 جولائی 2026 کو چھاتا آباد فٹبال میدان میں زمین دھنسی اور قریب کے گھر متاثر ہوئے۔ اسی طرح 4 اگست 2026 کو گووند پور سلیکٹیڈ میں زمین دھنسنے کی وجہ سے آدھا درجن گھر متاثر ہوئے۔ اس کے چند روز بعد 7 اگست 2026 کو چھاتا آباد میں دوبارہ زمین دھنسی، جس کے نتیجے میں کئی گھر متاثر ہوئے اور کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ 26 اگست 2026 کو چھاتا آباد کاجو بگان میں بھی حادثہ پیش آیا، اور تقریباً 12 دنوں کے بعد ہی 8 ستمبر 2026 کو سجوا تین پٹیاں میں زمین دھنسنے کے حادثے میں 7 سالہ بچے کی موت ہوئی، جبکہ کئی لوگ زخمی ہوئے اور کئی گھر متاثر بھی ہوئے۔ بار بار ہو رہے حادثات کے مد نظر مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ حساس علاقوں کی نگرانی کی جائے اور خطرناک علاقوں کی گھیرا بندی کی جائے، ساتھ ہی متاثرہ کنبے کے لیے حفاظتی انتظامات کیے جائیں

