مختصر جواب
بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گزشتہ 3 ماہ کے دوران بلوچستان میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی 14 سے زیادہ چوکیوں پر قبضہ کر کے انہیں تباہ کر دیا اور وہاں سے اسلحہ بھی لوٹ لیا۔
اہم نکات
- بی ایل اے نے گزشتہ 3 ماہ میں 14 سے زیادہ فوجی چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔
- تنظیم کے مطابق، ان چوکیوں سے اسلحہ اور فوجی سامان بھی لوٹا گیا ہے۔
- قبضے کے بعد تمام چوکیوں کو تباہ کر دیا گیا۔
- بی ایل اے نے اپنے دعوے کی حمایت میں ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔
- ویڈیو کی تاریخ، مقام اور پس منظر کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
- کوئٹہ تفتان تجارتی راستہ بھی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں کارروائیاں کی گئیں۔
پاکستان میں بلوچ باغیوں نے سیکورٹی اہلکاروں کا جینا حرام کر دیا ہے۔ اب ’بلوچ لبریشن آرمی‘ (بی ایل اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گزشتہ 3 مہینوں میں پاکستانی فوج کی 14 سے زیادہ چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے، اور ان چوکیوں میں رکھے ہوئے اسلحے بھی لوٹ لیے ہیں۔ بعد ازاں ان چوکیوں کو تباہ کر دیا گیا۔ اس دعوے کی حمایت میں ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ اس ویڈیو میں بی ایل اے کے جنگجو پاکستانی فوج کی چوکیوں پر قبضہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ باغی گروپ کا کہنا ہے کہ یہ تمام کارروائی منصوبہ بند طریقے سے کی گئی ہے۔
بی ایل اے کے مطابق اس کے جنگجوؤں نے گزشتہ تین مہینوں کے دوران بلوچستان کے الگ الگ علاقوں میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی 14 چوکیوں کو اپنے قبضے میں لیا ہے۔ بی ایل اے نے کارروائی کے دوران ہتھیار ضبط کرنے کی بات بھی کہی ہے۔ بی ایل اے کے مطابق چوکیوں سے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہتھیار اور دیگر فوجی سامان بھی ہاتھ لگے ہیں۔ حالانکہ بی ایل اے نے یہ اطلاع نہیں دی ہے کہ کل کتنے ہتھیار ضبط کیے گئے یا کس نوعیت کا فوجی ساز و سامان ملا ہے۔ جن علاقوں کا بی ایل اے نے ذکر کیا ہے، ان میں کوئٹہ تفتان تجارتی راستہ بھی شامل ہے۔
بی ایل اے کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی مختلف مقامات پر ہوئی ہے۔ اسی دوران کچھ فوجی چوکیوں پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس دعوے کے بعد سب سے اہم اس کی آزادانہ تصدیق ہے۔ فی الحال یہ بات صاف نہیں ہو سکی ہے کہ بی ایل اے نے جن چوکیوں پر قبضے کی بات کہی ہے، وہاں کیا ہو رہا ہے، اس لیے اس دعوے کو فی الحال تنظیم کے بیان کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔ بی ایل اے نے ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ حالانکہ اس ویڈیو کی تاریخ، مقام اور پس منظر کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے ویڈیو کی بنیاد پر دعوے کو درست ماننا ممکن نہیں ہے۔ بلوچستان میں بی ایل اے پہلے بھی پاکستانی سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ اس بار تین ماہ کی کارروائی کے دوران 14 چوکیوں پر قبضے اور انہیں تباہ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

