مختصر جواب
چنئی میں پالتو جانوروں کو عوامی مقامات پر چھوڑنے والے مالکان کو اب 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا، یہ نیا ضابطہ جانوروں کی رجسٹریشن اور مائیکروچپنگ کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔
اہم نکات
- پالتو جانوروں کو سڑکوں یا عوامی جگہوں پر چھوڑنے پر 25 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔
- گریٹر چنئی کارپوریشن نے یہ نیا ضابطہ نافذ کیا ہے۔
- مائیکروچپ کے ذریعے لاوارث جانوروں کے مالکان کا پتا لگایا جائے گا۔
- شہر کی حدود میں پالتو جانوروں کے مالکان کے لیے لائسنس لینا لازمی ہے۔
- مالکان کے لیے مائیکروچپ لگوانا بھی ضروری ہے۔
چنئی میں پالتو کتے یا بلی کا لائسنس لینے کے بعد اسے سڑک یا کسی عوامی جگہ پر چھوڑنے پر 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ دراصل گریٹر چنئی کارپوریشن (جی سی سی) نے یہ نیا ضابطہ نافذ کیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق میونسپل کارپوریشن کو مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ لوگ اپنے پالتو جانوروں کا رجسٹریشن کرانے کے باوجود انہیں سڑکوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی کو روکنے کے لیے جرمانے کا التزام کیا گیا ہے۔
کارپوریشن ہر لائسنس یافتہ جانور کو اس کے مالک سے جوڑنے کے لیے مائیکروچپ کا استعمال کر رہی ہے۔ اس چپ میں مالک کا نام، پتہ اور جانور کی اینٹی ریبیز ویکسینیشن کی معلومات موجود ہوتی ہیں۔ اگر کوئی پالتو جانور سڑک پر لاوارث ملتا ہے تو مائیکروچپ کے ذریعے اس کے مالک کا پتا لگایا جا سکے گا۔ یہ ریکارڈ اس بات کو یقینی بنانے میں بھی مدد کرے گا کہ پالتو جانور کو ہر سال ویکسین لگ رہی ہے یا نہیں۔
شہر کی حدود میں رہنے والے پالتو جانوروں کے مالکان کے لیے لائسنس لینا لازمی ہے۔ یہ ضابطہ اربن لوکل باڈیز ایکٹ، 1998 کی دفعہ 292 اور 2023 میں بنائے گئے قواعد کے تحت نافذ ہے۔ اس کے لیے آن لائن درخواست دی جا سکتی ہے۔ پالتو جانوروں کے لیے مائیکروچپ لگوانا بھی ضروری ہے۔ جی سی سی نے اپنا آن لائن پالتو جانوروں کے لائسنس کا نظام گزشتہ سال اکتوبر میں شروع کیا تھا۔ رواں سال جولائی تک کارپوریشن 78232 پالتو جانوروں کے مالکان کو لائسنس جاری کر چکی تھی۔
واضح رہے کہ مسلسل موصول ہونے والی شکایات کے بعد ہی کارپوریشن نے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 25 ہزار روپے کا جرمانہ ان مالکان پر عائد ہوگا جو اپنے لائسنس یافتہ کتوں یا بلیوں کو سڑکوں یا عوامی جگہوں پر چھوڑیں گے۔ رجسٹریشن اور مائیکروچپ کا مطلب یہ ہے کہ لائسنس ملنے کے بعد بھی جانور کی شناخت برقرار رہتی ہے اور رجسٹریشن ریکارڈ کے ذریعے مالک کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔

