Surat Hal Logo

لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے: ناقص کارکردگی پر پی این سی انفراٹیک پر 3 سال کی پابندی

این ایچ اے آئی نے کمپنی کو نان پرفارمر قرار دے کر تمام پروجیکٹس سے ڈیبار کر دیا ہے۔

سڑک کے کنارے کھڑے لوگ اور ایک کھدائی کرنے والا سڑک کی مرمت کر رہا ہے۔
لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے کی تعمیر میں لاپروائی پر این ایچ اے آئی کا سخت اقدام۔

مختصر جواب

این ایچ اے آئی نے لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے کی تعمیر میں لاپروائی اور خراب معیار کے انکشاف کے بعد پی این سی انفراٹیک کو 3 سال کے لیے اپنے تمام پروجیکٹس سے ڈیبار کر دیا ہے۔

اہم نکات

  • این ایچ اے آئی نے پی این سی انفراٹیک کو نان پرفارمر قرار دیا ہے۔
  • کمپنی کو 3 سال کے لیے این ایچ اے آئی کے تمام پروجیکٹس سے ڈیبار کر دیا گیا ہے۔
  • ایکسپریس وے کے افتتاح کے بعد سڑک کا ایک بڑا حصہ دھنس گیا تھا۔
  • این ایچ اے آئی نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی ہے۔
  • پروجیکٹ منیجر وویک گپتا، ریزیڈنٹ انجینئر یتیندر کمار اور ٹیم لیڈر سریندر کمار کو ہٹا دیا گیا ہے۔
  • ان تینوں افسران پر اگلے 2 سال تک کسی بھی پروجیکٹ میں کام کرنے پر پابندی ہے۔

لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے بنانے میں لاپروائی اور خراب معیار کا انکشاف ہونے کے بعد ’نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا‘ (این ایچ اے آئی) نے سخت قدم اٹھایا ہے۔اس نے ایکسپریس وے بنانے والی کمپنی ’پی این سی انفراٹیک‘ کو ’نان پرفارمر‘ قرار دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی کو 3 سال کے لیے این ایچ اے آئی کے تمام پروجیکٹس سے ڈیبار (ممنوع) کر دیا گیا ہے۔ این ایچ اے آئی نے ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

لکھنؤ-کانپور ایکسپریس کے افتتاح کے کچھ ہی وقت بعد سڑک کا ایک بڑا حصہ دھنس گیا تھا۔ کئی مقامات پر سڑک کی اوپری سطح کھسکنے اور بڑے بڑے شگاف پڑنے کی شکایتیں سامنے آ رہی تھیں۔ لاکھوں روپے کی لاگت سے بنائے گئے اس ہائی اسپیڈ کوریڈور کی ایسی حالت دیکھ کر سوال اٹھنے لگے تھے۔ ایسے میں این ایچ اے آئی نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی تھی۔ یہ کمیٹی ایکسپریس وے کی تعمیر میں استعمال کیے گئے مواد، ڈیزائن اور انجینئرنگ کی خامیوں کی جانچ کر رہی ہے۔

اس سے قبل این ایچ اے آئی نے پی این سی انفراٹیک پر 2 فیصد جرمانہ عائد کرتے ہوئے اسے نان پرفارمر قرار دینے کی سفارش کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی لاپروائی کے سبب خود مختار انجینئر کمپنی ’تھیم انجینئرنگ سروسز‘ کو بھی ڈیبار کرنے کا نوٹس بھیجا گیا تھا۔ نگرانی اور تعمیر میں کوتاہی کے سبب پی این سی کے پروجیکٹ منیجر وویک گپتا، ریزیڈنٹ انجینئر یتیندر کمار اور خود مختار انجینئرز کی ٹیم کے لیڈر سریندر کمار کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان تینوں افسران پراین ایچ اے آئی، مورتھ اور این ایچ آئی ڈی سی ایل کے کسی بھی پروجیکٹ میں اگلے 2 سال تک کام کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ این ایچ اے آئی نے پروجیکٹ ڈائریکٹر نکُل پرکاش ورما کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جبکہ سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر سوربھ چورسیا کو وجہ بتاؤ نوٹس (چارج شیٹ) بھیجا تھا۔

Share this story

WhatsAppXFacebook