مختصر جواب
راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کے ترنمول کانگریس کا نام اور انتخابی نشان منجمد کرنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے، اسے ووٹ اور حکومت کی چوری کے بعد اب پارٹی کی چوری قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ جمہوری زوال کی علامت ہے اور الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری کے برعکس کام کر رہا ہے۔
اہم نکات
- راہل گاندھی نے ترنمول کانگریس کا نام اور انتخابی نشان منجمد کیے جانے پر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
- انہوں نے کہا کہ پہلے شیوسینا، پھر این سی پی اور اب ترنمول کانگریس کے ساتھ ایک ہی پیٹرن دہرایا جا رہا ہے۔
- راہل گاندھی کے مطابق، بی جے پی اور الیکشن کمیشن مل کر پارٹیوں کو توڑتے ہیں اور ان کے انتخابی نشان چھین لیتے ہیں۔
- انہوں نے اس فیصلے کو "ووٹ چوری، حکومت چوری، اب پارٹی چوری" قرار دیا اور اسے جمہوری زوال کی علامت بتایا۔
- راہل گاندھی نے ممتا بنرجی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور اسے ہر سیاسی پارٹی اور ووٹر کی جنگ قرار دیا۔
’پہلے شیوسینا، پھر این سی پی اور اب ترنمول کانگریس۔ ہر بار ایک ہی پیٹرن۔ بی جے پی اور الیکشن کمیشن مل کر ایک پارٹی کو توڑتے ہیں، پھر اس کا انتخابی نشان چھین لیا جاتا ہے۔ جب پوری کی پوری پارٹی چوری ہو سکتی ہے، تو کروڑوں ہندوستانیوں کے ووٹ چوری ہونا بھی حیرانی کی بات نہیں۔‘‘ یہ تلخ تبصرہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلہ کے بعد کیا ہے، جس میں ترنمول کانگریس کا نام اور انتخابی نشان منجمد کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔
دراصل مغربی بنگال میں ضمنی اسمبلی انتخاب ہونا ہے، اور اس سے عین قبل الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ ترنمول کانگریس کے دونوں ہی گروپوں کو نئے نام اور نئے انتخابی نشان کے ساتھ اپنے امیدوار کھڑے کرنے ہوں گے۔ یعنی ترنمول کانگریس کا نام اور ’2 پھول و گھاس‘ والا انتخابی نشان استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ اس فیصلہ پر راہل گاندھی نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ووٹ چوری، حکومت چوری، اب پارٹی چوری۔ یہ ہمارے جمہوری زوال کی علامت بن گئے ہیں۔‘‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں راہل گاندھی نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری مینڈیٹ کی حفاظت کرنا ہے، لیکن اس کے برعکس وہ ان طاقتوں کی مدد کر رہا ہے جو عوام کے فیصلہ کو ہی پلٹ دیتے ہیں۔ انھوں نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ممتا بنرجی کے ساتھ اپنی یکجہتی کا بھی اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ جنگ صرف ممتا بنرجی کی نہیں ہے، یہ ہر سیاسی پارٹی، ہر ووٹر کی جنگ ہے، جو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخاب چاہتا ہے۔‘‘

