مختصر جواب
سہارنپور کلکٹریٹ احاطہ میں موجود مسجد کو منہدم کیے جانے کے بعد اس کے ملبے میں 1909 اور 1911 جیسے نمبرات والی اینٹیں ملی ہیں، جو مسجد کی آزادی سے پہلے کی تاریخ کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں۔
اہم نکات
- سہارنپور کلکٹریٹ احاطہ میں موجود مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔
- ملبے میں 1909، 1911 اور 43 جیسے نمبرات والی اینٹیں ملی ہیں۔
- یہ نمبرات مسجد کی آزادی سے پہلے کی تاریخ کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔
- ملبہ دیکھنے کے لیے لوگوں کے پہنچنے پر پولیس تعینات کی گئی ہے۔
- ملبہ ہٹائے جانے کے بعد ایک کنویں جیسی ساخت ملی، جسے بیریکیڈ کیا گیا ہے۔
سہارنپور کلکٹریٹ احاطہ میں موجود مسجد کو منہدم کیے جانے کے بعد اس کا ملبہ مختلف مقامات پر ڈلوایا گیا ہے۔ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ ملبہ میں کئی ایسی اینٹیں ملی ہیں، جن پر کچھ نمبرات درج ہیں۔ یہ نمبرات اب معمہ بن چکے ہیں۔ پہلی نظر میں ان نمبروں کو دیکھنے سے ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی سنہ یعنی سال کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ بات پورے یقین کے ساتھ نہیں کی جا سکتی۔ کئی لوگ انہیں اینٹوں کی تیاری کے سال سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 5 ستمبر کو مسجد منہدم کیے جانے بعد دیر شام تک ملبہ کو کلکٹریٹ احاطے کی جگہ سے ہٹا دیا گیا۔ ہٹائے گئے ملبے میں کئی اینٹوں پر 1909، 1911 اور 43 سمیت جیسے نمبر لکھے ہوئے ہیں۔ اینٹوں پر درج ان نمبروں نے معاملے کو پوری طرح الجھا دیا ہے۔ مسجد انتظامیہ کمیٹی کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کلکٹریٹ احاطہ میں واقع مسجد آزادی سے پہلے کی ہے۔ اگر اینٹوں پر درج نمبرات کو سنہ تصور کیا جائے تو مسجد انتظامیہ کمیٹی کا دعویٰ سچ ثابت ہوتا ہے۔
اینٹوں پر نمبر لکھے جانے کی بات پھیلتے ہی ان مقامات پر لوگ پہنچنے لگے ہیں جہاں منہدم مسجد کا ملبہ ڈالا گیا ہے۔ لوگ اینٹوں کو اٹھا کر دیکھ رہے ہیں اس پر لکھے حروف کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز سامنے آئی ہیں، جن میں لوگ ملبہ سے اینٹیں اٹھا کر لے جاتے ہوئے بھی دکھائی دیے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے متعلقہ مقامات پر پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ ملبہ دیکھنے کے لیے آنے والے لوگوں کو پولیس کی جانب سے روکا بھی جا رہا ہے۔ کچھ مقامات پر ملبہ کو ترپال سے چھپا دیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کلکٹریٹ احاطہ کی منہدم مسجد کا ملبہ ہٹائے جانے کے بعد کنویں جیسی ایک ساخت ملی تھی۔ اسے محفوظ رکھنے اور اس کا تحفظ کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے کنویں کے چاروں طرف بیریکیڈ لگا دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کلکٹریٹ میں واقع نئے جلسہ گاہ کے آگے کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ جن لوگوں کو ریونیو دفتر یا پھر انتخابی دفتر جانا ہے، صرف انہیں ہی نئے جلسہ گاہ سے آگے جانے دیا جا رہا ہے۔ کنویں کے آس پاس نگرانی کے لیے آر آر ایف اور پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔

