Surat Hal Logo

پیکیجڈ فوڈ پر ’وارننگ‘ ڈالنے میں تاخیر سے سپریم کورٹ برہم، ’ایف ایس ایس اے آئی‘ کی سرزنش، نمک اور سوڈیم ڈاٹا پر جواب طلب

سپریم کورٹ نے پیکڈ فوڈ پر وارننگ لیبل میں تاخیر پر FSSAI کو سخت تنبیہ کی۔

سپریم کورٹ کے جج پیکڈ فوڈ پر ہیلتھ وارننگ لیبل کے معاملے پر FSSAI کے نمائندے سے سوال کر رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے پیکڈ فوڈ پر ہیلتھ وارننگ لیبل لگانے میں تاخیر پر FSSAI کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

مختصر جواب

سپریم کورٹ نے پیکڈ فوڈ پر ہیلتھ وارننگ لیبل لگانے میں تاخیر پر FSSAI کو سرزنش کی ہے۔ عدالت نے نمک اور سوڈیم کی مقدار سے متعلق وارننگ پر تفصیلات طلب کی ہیں اور ایک حکم جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اہم نکات

  • سپریم کورٹ نے پیکڈ فوڈ پر وارننگ لیبل میں تاخیر پر FSSAI پر ناراضگی ظاہر کی۔
  • FSSAI نے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ طے شدہ باتوں سے انحراف کیا۔
  • عدالت نے نمک اور سوڈیم کی مقدار سے متعلق وارننگ پر جواب طلب کیا۔
  • ICMR گائیڈ لائن میں اشیاء خورد و نوش کی جانچ کے 2 زمرے طے ہیں۔
  • جانچ 100 گرام اور ہر سرونگ کی مقدار پر ہونی چاہئے۔

سپریم کورٹ نے پیکڈ فوڈ پر وارننگ کی سطح سے متعلق ’ایف ایس ایس اے آئی‘ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ پیکجنگ پر وارننگ میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں مزید تفصیلات طلب کی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی پوچھا ہے کہ نمک اور سوڈیم کی مقدار سے متعلق وارننگ پر کیا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پہلے ہوئی میٹنگ میں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے کچھ باتوں پر رضا مندی ظاہر کی تھی، لیکن اب انہوں نے اپنی باتوں سے انحراف اختیار کیا ہے۔

وکیل نے کہا کہ آج ’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے یو ٹرن لے لیا ہے، جو پہلے سے طے شدہ تھا، اس سے مختلف رخ اپنایا ہے۔ اس معاملے پر سینئر ایڈووکیٹ منندر سنگھ نے عدالت میں اپنی دلیل رکھی۔ انہوں نے بتایا کہ ’آئی سی ایم آر‘ کی گائیڈ لائن میں 2 زمرہ طے کیا گیا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اشیاء خورد و نوش کی جانچ خصوصی شرائط کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ یعنی ٹیسٹنگ 100 گرام کی مقدار پر اور ساتھ ہی ہر سرونگ کی مقدار پر بھی ہونی چاہئے، تاکہ صارفین کو صحیح جانکاری مل سکے۔

جسٹس پاردی والا نے کہا کہ عدالت نے بھی اس موضوع پر اپنی سطح پر تحقیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج اس معاملے میں آرڈر پاس کیا جائے گا، جو شام تک یا پھر کل تک اپلوڈ ہو جائے گا۔ جسٹس پاردی والا نے وکلاء سے کہا کہ وہ اس حکم کا مطالعہ کریں، اس کے بعد عدالت میں واپس آئیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’ایف ایس ایس اے آئی‘ اور مرکزی حکومت بھی اس حکم کو بغور پڑھے، تاکہ آگے کی سماعت میں اس پر صحیح طریقے سے بات ہوسکے۔ یہ معاملہ پیکڈ فوڈ پروڈکٹس پر ’ہیلتھ وارننگ لیبل‘ سے وابستہ ہے۔ جس میں زیادہ شکر، نمک اور چربی کی مقدار کی اطلاع صارفین کو واضح طور پر پہچانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Share this story

WhatsAppXFacebook