مختصر جواب
امریکی نیوز چینلز سی این این، ایم ایس ناؤ، اور پولیٹیکو نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوریج سے روکے جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان نیوز آرگنائزیشن نے الزام لگایا ہے کہ منتخب کرکے پابندی عائد کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
اہم نکات
- سی این این، ایم ایس ناؤ، اور پولیٹیکو نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔
- وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو ان نیوز آرگنائزیشن کی کوریج پر پابندی عائد کی تھی۔
- نیوز آرگنائزیشن نے پابندی کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
- ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر فرضی خبروں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
- پابندی کے بعد صحافیوں کے داخلہ بیج غیر فعال کر دیے گئے تھے۔
- سی این این کو پول ڈیوٹی سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف امریکہ کے نیوز چینلز نے محاذ آرائی شروع کر دی ہے۔ امریکی نیوز آرگنائزیشن سی این این، ایم ایس ناؤ، اور پولیٹیکو نے ہفتے کے آخر میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوریج سے روکے جانے کے بعد پیر کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ آرگنائزیشن نے الزام لگایا ہے کہ منتخب کرکے پابندی عائد کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انتظامیہ کی جانب جمعہ کے روز پابندی کے اعلان کے بعد صدر دفتر وائٹ ہاؤس نے ان خبر رساں اداروں کی کوریج پر پابندی عائد کردی تھی۔
ڈونالڈ ٹرمپ کافی عرصے سے ان صحافیوں کی نیوز کوریج پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، جن سے وہ اختلاف رکھتے ہیں۔ یہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم سے متعلق اختیار کا ایک امتحان بھی ہے، جہاں آئین حکومت کو پریس کی آزادی پر پابندی عائد کرنے سے روکتا ہے۔ ان نیوز آرگنائزیشن نے اپنی عرضی میں کہا کہ آئین صدر یا کسی دوسرے سرکاری عہدیدار کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ صرف خبروں کا مواد پسند نہ آنے کی بنیاد پر کسی اطلاع یا قانونی طریقۂ کار پر عمل کیے بغیر پریس کے پہلی ترمیم سے متعلق اختیار، آزادی اور املاک سے متعلق مفادات سے محروم کر دیں۔
واضح رہے کہ پہلے صحافیوں کے داخلہ بیج کو غیر فعال کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں تینوں نیوز آرگنائزیشن نے اپنے رپورٹرس کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکے جانے کے 2 دنوں کے بعد مشترکہ طور پر مقدمہ دائر کیا، اس سے ایک روز قبل ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان آرگنائزیشن پر پابندی لگا رہے ہیں، کیوں کہ وہ ان اداروں کی خبروں کو فرضی مانتے ہیں۔ ممنوعہ ٹی وی نیٹ ورک پیر کی صبح وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے بالکل باہر ایک گلی سے رپورٹنگ کر رہے تھے۔ پیر کے روز ہی سی این این کو بھی پول ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا تھا، جنہیں اہم نیوز نیٹ ورک آپس میں شیئر کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے فی الحال مقدمے پر کسی قسم کا تبصرہ یا جواب نہیں دیا ہے۔
حالانکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ‘ پر لکھا تھا کہ وہ اس بات کو اہمیت نہیں دیتے ہیں، جسے وہ پریس کی آزادی کہتے ہیں۔ ٹرمپ نے پوسٹ میں کہا کہ وائٹ ہاؤس پریس کی آزادی کو نشانہ نہیں بنا رہا ہے۔ وہ فرضی خبروں پر حملہ کر رہا ہے، جو ہمارے امریکہ میں کینسر کی طرح پھیل گیا ہے۔ یہ کرپٹ اور مکمل طور پر بے قابو ہے۔ یہ ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اسے اب روکا جانا چاہئے۔

