Surat Hal Logo

’پارٹی فنڈ کے نام پر ای ایم آئی میں لیتے تھے رشوت‘، وزیر اعلی وجے نے ڈی ایم کے پر عائد کیا سنگین الزام، اسمبلی میں ہنگامہ

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے نے اسمبلی میں ڈی ایم کے پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سرکاری ٹھیکیداروں سے پارٹی فنڈ کے نام پر رشوت ای ایم آئی کی صورت میں لی جاتی تھی، جس پر اسمبلی میں شدید ہنگامہ ہوا۔

تمل ناڈو اسمبلی میں وزیر اعلیٰ وجے ڈی ایم کے پر رشوت خوری کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جس سے ہنگامہ برپا ہے۔
تمل ناڈو اسمبلی میں وزیر اعلیٰ وجے نے ڈی ایم کے پر پارٹی فنڈ کے نام پر ای ایم آئی میں رشوت لینے کا سنگین الزام لگایا، جس کے بعد اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔

مختصر جواب

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے نے اسمبلی میں ڈی ایم کے پر سنگین الزام لگایا کہ سرکاری ٹھیکیداروں سے پارٹی فنڈ کے نام پر رشوت ای ایم آئی کی صورت میں وصول کی جاتی تھی۔ انہوں نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے دستاویزات کا حوالہ دیا، جس میں مبینہ طور پر ایم کے اسٹالن اور ان کے بیٹے ادے ندھی اسٹالن سمیت کئی افراد کو براہ راست فائدہ حاصل کرنے والوں میں بتایا گیا ہے۔

اہم نکات

  • وزیر اعلیٰ وجے نے تمل ناڈو اسمبلی میں ڈی ایم کے پر رشوت خوری کا سنگین الزام لگایا۔
  • انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری ٹھیکیداروں سے پارٹی فنڈ کے نام پر رشوت ای ایم آئی طرز پر قسطوں میں لی جاتی تھی۔
  • وجے نے اپنے الزامات کے ثبوت کے طور پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ایک دستاویز کا حوالہ دیا۔
  • ای ڈی دستاویز میں ٹھیکیداروں سے کانٹریکٹ کی کل رقم کا 7.5 سے 10 فیصد تک رشوت لینے کا ذکر ہے۔
  • وزیر اعلیٰ نے ایم کے اسٹالن اور ادے ندھی اسٹالن کو مبینہ طور پر براہ راست فائدہ حاصل کرنے والوں میں بتایا۔
  • ان الزامات کے بعد ڈی ایم کے اراکین اسمبلی نے شدید احتجاج کیا اور اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ہوئی۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے نے پیر کے روز اسمبلی میں ڈی ایم کے پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرکاری کاموں کے ٹھیکیداروں سے پارٹی فنڈ کے نام پر رشوت لی جاتی تھی۔ وزیر اعلی وجے نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ رقم ایک ساتھ نہیں، بلکہ ’ای ایم آئی‘ طرز پر قسطوں میں وصول کی جاتی تھی۔ اپوزیشن کی جانب سے بدعنوانی کے الزامات کا ثبوت طلب کیے جانے پر وجے نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ایک دستاویز کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دستاویز میں الزامات کے ثبوت موجود ہیں۔ وجے کے مطابق دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ٹھیکیداروں سے کانٹریکٹ کی کل رقم کا 7.5 سے 10 فیصد تک پارٹی فنڈ کے نام پر لیا گیا ہے۔

وزیر اعلی وجے نے کہا کہ یہ رقم میونسل ایڈمنسٹریشن اینڈ واٹر سپلائی کے تحت سرکاری کام کرنے والے ٹھیکیداروں سے لی گئی۔ انہوں نے ای ڈی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں رہنے والی پارٹی کے فائدے کے لیے رشوت وصولی گئی ہے۔ دستاویز میں جس وقت کی بات ہے، اس وقت تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کی حکومت تھی۔ انہوں نے دستاویز میں بتائے گئے پروشوتم نام کے شخص کا بھی ذکر کیا۔ وزیر اعلی وجے کے مطابق پروشوتم کے حوالے سے 29 لاکھ روپے رشوت کے طور پر وصول کیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ صرف 29 لاکھ روپے کی رقم نہیں تھی، بلکہ اسے لون ای ایم آئی طرز پر قسطوں میں لیا گیا۔ وزیر اعلی وجے نے ای ڈی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس میں وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن اور ان کے بیٹے اور اس وقت کے ڈپٹی وزیر اعلی ادے ندھی اسٹالن کو مبینہ طور پر براہ راست فائدہ حاصل کرنے والوں میں بتایا گیا ہے۔ انہوں نے روی پرساد اور کئی دیگر نامعلوم افراد کا بھی نام لیا۔ وزیر اعلی وجے نے زور دے کر کہا کہ یہ الزامات ان کی جانب سے عائد نہیں کیے گئے ہیں، بلکہ ای ڈی کی دستاویز میں درج الزامات ہیں۔

وزیر اعلی وجے نے ڈی ایم کے کے سابقہ دور حکومت میں بدعنوانی کے الزامات سے متعلق سرکار یا کمیشن کی رپورٹ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ویرانم آبی سپلائی اسکیم کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ رپورٹ کے ایک باب میں 16 کروڑ روپے کے ٹینڈر پر 2.5 فیصد پارٹی فنڈ مانگے جانے کا الزام تھا۔ وزیر اعلی وجے کے بیان کے بعد اسمبلی میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ ڈی ایم کے رکن اسمبلی اسپیکر جے سی ڈی پربھاکر کے پوڈیم کے پاس پہنچ گئے اور نعرے بازی کی۔

Share this story

WhatsAppXFacebook