مختصر جواب
نیشنل کانفرنس کے ناراض ارکان اسمبلی نے پارٹی قیادت اور حکومت کو اپنے مطالبات پورے کرنے کے لیے 15 دن کا الٹی میٹم دیا ہے، بصورت دیگر وہ آئندہ سیاسی لائحہ عمل اختیار کریں گے۔
اہم نکات
- ناراض ارکان نے پارٹی قیادت اور حکومت کو 15 دن کی مہلت دی ہے۔
- مطالبات پورے نہ ہونے پر ناراض ارکان آئندہ سیاسی لائحہ عمل اختیار کریں گے۔
- تقریباً 17 سے 25 ارکان اسمبلی نے یکطرفہ فیصلوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
- کابینہ میں تبدیلی اور مشیروں کے کردار پر بھی اعتراضات ہیں۔
- بعض ارکان نے حکومت سے حمایت واپس لینے کا انتباہ دیا ہے۔
- اس پیش رفت سے عمر عبداللہ حکومت کو سیاسی چیلنج کا سامنا ہے۔
نیشنل کانفرنس کے ناراض ارکان اسمبلی نے پارٹی قیادت اور حکومت کے سامنے اپنے مطالبات پورے کرنے کے لیے 15 دن کی مہلت رکھی ہے۔ ناراض اراکین کا کہنا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا تو وہ آئندہ سیاسی لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس پیش رفت سے نیشنل کانفرنس کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، تقریباً 17 سے 25 ناراض ارکان اسمبلی نے پارٹی کے اندر یکطرفہ فیصلوں، کابینہ میں تبدیلی اور مشیروں کے کردار پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جائیں۔ اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو ارکان اسمبلی اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرسکتے ہیں۔
مزید یہ کہ بعض ارکان نے حکومت کی حمایت واپس لینے کا انتباہ بھی دیا ہے، جس سے عمر عبداللہ حکومت کے لیے سیاسی چیلنج پیدا ہوگیا ہے۔

