مختصر جواب
بندرگاہوں کے کارکنوں نے 30 اکتوبر کو عالمی سطح پر ہڑتال کی تاکہ تجارتی بندرگاہوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے اور اسلحہ، گولہ بارود، اور فوجی سازوسامان کی ترسیل بند کی جا سکے۔
اہم نکات
- 22 ممالک میں بندرگاہوں کے کارکنوں نے 30 اکتوبر کو عالمی ہڑتال کی۔
- 113 بندرگاہیں اس احتجاجی مہم کا حصہ بنیں۔
- 25 سے زائد مزدور تنظیموں نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔
- کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ تجارتی بندرگاہوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
- مظاہرین نے فلسطین، ایران اور یوکرین سمیت مختلف خطوں میں جاری جنگوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
- کارکنوں نے بہتر تنخواہوں، محفوظ کام کے ماحول اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا بھی مطالبہ کیا۔
جنگ اور اسلحے کی منتقلی کے خلاف 22 ممالک میں بندرگاہوں کے کارکنوں کی عالمی ہڑتال، 113 بندرگاہوں پر احتجاج
دنیا کے 22 ممالک میں بندرگاہوں کے ہزاروں کارکنوں نے جنگوں اور اسلحے کی منتقلی کے خلاف 30 اکتوبر کو عالمی سطح پر ہڑتال اور احتجاج کیا۔ اس کارروائی میں 25 سے زائد مزدور تنظیموں نے حصہ لیا، جبکہ 113 بندرگاہیں اس احتجاجی مہم کا حصہ بنیں۔
رپورٹ کے مطابق کارکنوں کا بنیادی مطالبہ ہے کہ تجارتی بندرگاہوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی ترسیل روکی جائے۔ مظاہرین نے فلسطین، ایران اور یوکرین سمیت مختلف خطوں میں جاری جنگوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
اس عالمی احتجاج کے دوران اٹلی، فرانس، یونان، اسپین، ترکی اور مراکش سمیت کئی ممالک میں بندرگاہوں پر کام معطل رہا یا احتجاجی سرگرمیاں انجام دی گئیں۔ بھارت کی بعض بڑی بندرگاہوں پر بھی کارکنوں نے احتجاج میں شرکت کی۔
کارکنوں نے جنگوں کے خاتمے کے ساتھ بہتر تنخواہوں، محفوظ کام کے ماحول اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا بھی مطالبہ کیا۔ اس ہڑتال کو عالمی سطح پر جنگ مخالف مزدور تحریک کے ایک اہم اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

