مختصر جواب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے اگر تہران مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
اہم نکات
- ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کیا۔
- ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا کہ مذاکرات نہ ہونے پر امریکہ دوبارہ فوجی آپریشن کر سکتا ہے۔
- یہ بیان فلوریڈا میں ایک ریلی سے خطاب کے دوران دیا گیا۔
- اس بیان سے خطے میں جاری کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
- ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔
- مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک نے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
ٹرمپ کی ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کی دھمکی، خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کرنے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے تہران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ مذاکرات کے لیے آمادہ نہ ہوا تو امریکہ دوبارہ فوجی آپریشن کر سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ٹرمپ نے جمعہ کو ریاست فلوریڈا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف ایک اور محدود فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ ان کے اس بیان سے خطے میں جاری کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب، ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، تاہم جنگ کے خاتمے اور مستقبل کے معاہدے سے متعلق صورتِ حال تاحال غیر یقینی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی ذرائع سے تنازع حل کریں۔

