Surat Hal Logo

شاہراہ کی بار بار بندش سے سیب کی فصل متاثر، ٹرک راستوں میں پھنسے

توسیعی کام اور بارش کے بعد پتھر گرنے کے واقعات، ابتدائی اقسام ہر اضافی دن میں قیمت کھو رہی ہیں

پہاڑی سڑک پر رکے ہوئے مال بردار ٹرکوں کی لمبی قطار
پہاڑی شاہراہ پر ٹرکوں کی قطار۔ (علامتی تصویر)

مختصر جواب

سرینگر جموں قومی شاہراہ NH-44 رواں سیب سیزن میں توسیعی کام اور بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کے سبب بار بار بند یا محدود رہی ہے، جس سے پھلوں سے لدے ٹرک راستوں میں پھنس رہے ہیں اور ابتدائی اقسام کا معیار اور قیمت متاثر ہو رہی ہے۔

اہم نکات

  • شاہراہ کا متاثرہ حصہ تقریباً 250 کلومیٹر طویل ہے۔
  • سیزن کے عروج پر روزانہ 400 سے 500 پھل ٹرک وادی سے باہر جاتے ہیں۔
  • سوپور منڈی سے اکیلے 80 تک ٹرک روزانہ روانہ ہوتے ہیں۔
  • دوال کے مقام پر ٹریفک 30 سے 40 میٹر کے یک طرفہ حصے پر کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
  • التجا مفتی نے 1 اگست 2026 کو قاضی گنڈ شاہراہ کی بندش پر تنقید کی تھی۔

سرینگر جموں قومی شاہراہ (NH-44) رواں سیزن میں بار بار بند یا محدود رہی ہے اور پھلوں سے لدے ٹرک راستوں میں پھنستے رہے ہیں۔ سیب کی برآمد کا سارا شیڈول اسی شاہراہ کی صورتحال سے بندھا ہوا ہے۔

بندش کی دو بڑی وجوہات رہی ہیں۔ ایک شاہراہ پر جاری توسیعی کام اور دوسری بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کے واقعات، جن کے بعد آمد و رفت کئی کئی گھنٹے رکی رہی۔

اس کا سب سے زیادہ اثر سیب کی ابتدائی اقسام پر پڑتا ہے۔ ان کی مدت زیادہ نہیں ہوتی اور راستے میں گزرنے والا ہر اضافی دن ان کے معیار اور قیمت دونوں میں کمی لاتا ہے۔

متاثرہ حصہ تقریباً 250 کلومیٹر طویل ہے۔ مشکل مقامات میں ضلع اودھم پور کا دوال پل اور سمرولی، قاضی گنڈ کے قریب لوئر منڈہ، نشری سے دگڈول، مروگ سے کشتواڑی پتھر اور رام بن سے بانہال کا حصہ شامل ہیں۔

سیزن کے عروج پر روزانہ 400 سے 500 پھل ٹرک وادی سے باہر جاتے ہیں، جن میں سے 80 تک صرف سوپور منڈی سے روانہ ہوتے ہیں۔ وادی سے سیب کی تجارت کے لیے یہی شاہراہ بنیادی راستہ ہے۔

دوال کے مقام پر ٹریفک کو 30 سے 40 میٹر کے یک طرفہ حصے پر کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ 12 اگست کو یہاں موسم کی اجازت سے دو طرفہ آمد و رفت کی اجازت دی گئی تھی۔

پی ڈی پی کی رہنما التجا مفتی نے تین ہفتے قبل، یعنی 1 اگست 2026 کو، اس صورتحال پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا: "بدقسمتی سے، پچھلے سال کی طرح اس بار بھی کشمیری سیب کاشتکار شدید اور تباہ کن نقصان اٹھا رہے ہیں کیونکہ قاضی گنڈ شاہراہ ایک بار پھر مرمت کے نام پر بند ہے۔"

اسی بیان میں انہوں نے سوال کیا تھا: "ایسا کیوں ہے کہ سڑک کی مرمت صرف فصل کی کٹائی کے موسم میں ہی ہوتی ہے؟"

Demo content compiled 2026-08-24 from published reports. Replace before launch.

Share this story

WhatsAppXFacebook