Surat Hal Logo

بہار میں گنڈک ندی کا پشتہ ٹوٹنے سے کئی اضلاع میں سیلاب کا خطرہ

چمپارن پشتہ کو 2 جگہوں پر نقصان پہنچا، اترپردیش میں بھی ایک پشتہ متاثر

ایک وسیع دریا پر ایک لمبا ڈیم، جس کے دونوں طرف سبز جنگلات اور ریت کے کنارے ہیں۔
بہار میں گنڈک ندی کے دباؤ کے باعث چمپارن کا پشتہ ٹوٹنے سے کئی اضلاع میں سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

مختصر جواب

بہار میں گنڈک ندی کے دباؤ کے باعث چمپارن کا پشتہ 29 ستمبر کی رات کو ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، گوپال گنج، سارن، مظفرپور اور ویشالی جیسے اضلاع میں پانی داخل ہو گیا ہے اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

اہم نکات

  • 29 ستمبر کی رات کو مغربی چمپارن میں گنڈک ندی کے بائیں کنارے پر چمپارن پشتہ 2 جگہوں پر ٹوٹ گیا۔
  • اترپردیش میں کشی نگر میں گنڈک ندی کے دائیں کنارے پر بھی ایک پشتہ کو نقصان پہنچا۔
  • پیر کو گنڈک بیراج سے 543500 کیوسک پانی کا اخراج ہوا، جو زیریں علاقوں سے گزر رہا ہے۔
  • 26 اور 27 ستمبر کے درمیان شدید بارش کے باعث ندی میں پانی کی سطح پہلے سے ہی بڑھی ہوئی تھی۔
  • محکمہ آبی وسائل اور ضلع انتظامیہ کی ٹیمیں صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔
  • ہیڈکوارٹر سے 4 ٹیمیں بگہا، بیتیا، موتیہاری اور گوپال گنج بھیجی گئی ہیں۔

بہار میں گنڈک ندی کے دباؤ کے باعث چمپارن کا پشتہ ٹوٹ گیا ہے۔ منگل (29 ستمبر) کی صبح محکمہ آبی وسائل کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ پیر کی رات مغربی چمپارن میں گنڈک ندی کے بائیں کنارے پر تعمیر شدہ چمپارن پشتہ کو 2 جگہوں (گاؤں خیرتوا، بلاک بگہا اور گاؤں پھولیا کھاڑ، بلاک بیریا) پر نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ اترپردیش میں کشی نگر میں گنڈک ندی کے دائیں کنارے پر تعمیر شدہ پشتہ کو بھی ایک جگہ پر نقصان پہنچا ہے۔ بہار میں محکمہ آبی وسائل اور مغربی چمپارن ضلع انتظامیہ کی ٹیم کی جانب سے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ گنڈک ندی کے پانی کو روکے رکھنے کے لیے یہ پشتہ بنایا گیا تھا۔ پیر کو یہ پانی کا شدید دباؤ برداشت نہیں کر پایا اور ٹوٹ گیا۔ رات تقریباً 10 بجے پشتہ ٹوٹا ہے، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔ پیر کو گنڈک بیراج سے 543500 کیوسک پانی کا اخراج ہوا ہے جو ابھی اپنے زیریں علاقوں مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، گوپال گنج، سارن، مظفرپور اور ویشالی سے ہو کر گزر رہا ہے۔ اس دوران والمیکی نگر واقع گنڈک بیراج پر ندی میں پانی کا بہاؤ 13 گھنٹے تک 5 لاکھ کیوسک سے زائد اور 32 گھنٹے تک 4 لاکھ کیوسک سے زیادہ بنا رہا۔

قابل ذکر ہے کہ 26 اور 27 ستمبر کے درمیان بہار میں گنڈک ندی سے متصل سرحدی اضلاع میں بھی کافی زیادہ بارش ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے پانی کی سطح پہلی سے ہی بڑھی ہوئی ہے۔ گنڈک ندی میں پانی کے انتہائی زیادہ بہاؤ کے نتیجے میں ندی پر تعمیر شدہ پشتوں پر شدید دباؤ کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ محکمہ آبی وسائل کی جانب سے بتایا گیا کہ علاقائی انجینئر مسلسل سیلاب سے نمٹنے کے کام میں مصروف ہیں۔ پشتوں پر کافی دباؤ ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہیڈکوراٹر سے رات میں ہی ایگزیکٹو انجینئر کی سربراہی میں 4 ٹیموں کو بگہا، بیتیا، موتیہاری اور گوپال گنج بھیجا گیا ہے۔ غیر متوقع پانی کے اخراج کو دیکھتے ہوئے پہلے سے ہی اضافی انجینئروں کو موقع پر تعینات کیا گیا ہے۔ بالائی علاقوں میں پانی کی سطح کم ہونے جبکہ زیریں علاقوں میں بڑھنے کا رجحان ہے۔ اعلیٰ افسران کی جانب سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

Share this story

WhatsAppXFacebook