مختصر جواب
ہندوستان نے ایشین گیمز 2026 میں اپنا پہلا تمغہ خواتین کی ٹریپ شوٹنگ کے ٹیم ایونٹ میں جیتا، جہاں منیشا کیر، نیرو ڈھانڈا اور آشیما اہلاوت کی ٹیم نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔
اہم نکات
- ہندوستان نے ایشین گیمز 2026 میں شوٹنگ میں پہلا تمغہ جیتا۔
- خواتین کی ٹریپ شوٹنگ ٹیم ایونٹ میں ہندوستان نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔
- ٹیم میں منیشا کیر، نیرو ڈھانڈا اور آشیما اہلاوت شامل تھیں۔
- تینوں نے مل کر 328 کا اسکور کیا، جبکہ چین نے گولڈ میڈل جیتا۔
- نیرو ڈھانڈا نے 118 پوائنٹس اسکور کیے اور انفرادی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔
- منیشا کیر نے اپنے خاندان کی کفالت کے لیے مچھلی فروخت کی تھی۔
ایشین گیمز 2026‘ میں آج ہندوستان کی جھولی میں پہلا تمغہ شوٹنگ کے مقابلے میں آیا۔ ہندوستان نے یہ تمغہ خواتین کی ٹریپ شوٹنگ کے ٹیم ایونٹ میں جیتا۔ ہندوستان کی منیشا کیر، نیرو ڈھانڈا اور آشیما اہلاوت کی 3 رکنی ٹیم نے خواتین کی ٹریپ شوٹنگ کے ٹیم ایونٹ میں سلور میڈل حاصل کیا۔ تینوں نے مل کر 328 کا اسکور کیا۔ وہیں اس ایونٹ کا گولڈ میڈل چین کی شوٹرز نے جیتا، جنہوں نے 346 کا اسکور کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ ہندوستانی خواتین شوٹرز کی 3 رکنی ٹیم نے 328 کا اسکور کیسے کیا؟ اس میں سب سے بڑا تعاون نیرو ڈھانڈا کا رہا، جنہوں نے اکیلے 118 پوائنٹس اسکور کیے۔ نیرو ڈھانڈا اپنے اس اسکور کے ساتھ مشترکہ طور پر پہلے مقام پر رہیں، جس کی وجہ سے انہیں خواتین کی ٹریپ شوٹنگ کے انفرادی ایونٹ کے فائنل میں بھی جگہ مل گئی۔ نیرو ڈھانڈا کے علاوہ آشیما اہلاوت نے 106 پوائنٹس اسکور کیے، وہیں منیشا کیر نے 104 پوائنٹس حاصل کیے۔ اب اس اسکور کے ساتھ یہ دونوں نیرو ڈھانڈا کی طرح انفرادی فائنل میں تو جگہ نہیں بنا سکیں، لیکن ٹیم ایونٹ میں ہندوستان کو سلور میڈل دلانے کے لیے ان کا تعاون کافی رہا۔ آشیما اہلاوت 16ویں مقام پر جبکہ منیشا کیر 23ویں مقام پر رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دونوں انفرادی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والی ٹاپ 8 شوٹرز میں اپنی جگہ پکی نہیں کر سکیں۔
قابل ذکر ہے کہ نیرو ڈھانڈا کسان کی بیٹی ہیں۔ وہیں آشیما کو ٹریپ شوٹنگ کے میدان تک لانے میں ان کی ماں کی قربانیوں کا بڑا کردار رہا ہے۔ لیکن ان تینوں میں سب سے زیادہ توجہ منیشا کیر کی جدوجہد کی کہانی اپنی جانب کھینچتی ہے، جو بھوپال کے ایک مچھیرے کی بیٹی ہیں۔ منیشا کیر کا ذکر بھلے ہی اب سلور میڈل جیتنے کو لے کر ہو رہی ہو، لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب انہیں اپنے 10 رکنی خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے والد کا ہاتھ بٹانا پڑتا تھا۔ وہ اپنے والد کے ساتھ مچھلی پکڑنے اور اسے فروخت کرنے کا کام کرتی تھیں۔ انہیں شوٹنگ سے متعارف کرانے میں ان کی بڑی بہن کا اہم کردار رہا، جو انہیں اس ٹرائل تک لے گئی تھیں، جہاں منیشا کی صلاحیتوں پر ہندوستان کے سابق اولمپین شوٹر منشر سنگھ کی نظر پڑی۔ اس کے بعد منیشا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اب جو کچھ حاصل کیا ہے، وہ تاریخ میں درج ہو چکا ہے۔

