Surat Hal Logo

دہلی میں 17 سالہ لڑکی سے زیادتی اور قتل پر پرینکا گاندھی کا سخت ردعمل

کانگریس رہنما نے خواتین کی حفاظت پر حکومت اور معاشرے کو ناکام قرار دیا

ایک خاتون پریس کانفرنس میں تقریر کر رہی ہیں
ملزمان نے لڑکی کو قتل کرنے کے بعد لاش کھیت میں پھینک دی تھی۔

مختصر جواب

پرینکا گاندھی نے دہلی میں 17 سالہ لڑکی کے ساتھ ہونے والی عصمت دری اور قتل کے بعد ملک میں خواتین کے تحفظ کی ذمہ داری لینے سے حکومت اور معاشرے کی ناکامی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اہم نکات

  • دہلی میں 17 سالہ لڑکی سے عصمت دری اور قتل کا واقعہ 13 ستمبر کو سامنے آیا۔
  • 4 افراد، جن میں 3 نابالغ شامل ہیں، نے اس جرم کا ارتکاب کیا۔
  • ملزمان نے لڑکی کو نشے کی حالت میں زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر قتل کر دیا۔
  • پرینکا گاندھی نے خواتین کے تحفظ کے معاملے پر حکومت اور معاشرے کو ناکام قرار دیا۔
  • انہوں نے کہا کہ مجرموں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں ہوتی اور ایف آئی آر بھی درج نہیں کی جاتی۔

دہلی میں نابالغ لڑکی سے عصمت دری اور قتل کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے خواتین کی حفاظت کو لے کر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خواتین کی حفاظت کی کوئی ذمہ داری لینے کو تیار ہی نہیں ہے۔ پرینکا گاندھی واڈرا نے ہفتہ کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ دہلی میں 17 سالہ بچی کے ساتھ ظلم کی تمام حدیں پار کر دی گئیں اور اس کے بعد اسے بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ چند ہی روز قبل ایک اور نابالغ لڑکی کے ساتھ عصمت دری کی گئی۔‘‘

اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں پرینکا گاندھی نے مزید لکھا کہ ’’ملک میں خواتین کی حفاظت کی کوئی ذمہ داری لینے کو تیار ہی نہیں ہے۔ خواتین کی ترقی کی صرف کھوکھلی باتیں کی جاتی ہیں۔ سینکڑوں خواتین پر مظالم ہوتے ہیں، تشدد کیا جاتا ہے، لیکن وہ مجرموں کے خلاف ٹھوس کارروائی کی امید نہیں کر سکتیں، ایف آئی آر تک درج نہیں کی جاتی۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’معاشرہ اور حکومت دونوں خواتین کو تحفظ، آزادی اور مساوات کا حق دینے میں پوری طرح ناکام ہیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ 13 ستمبر کو سامنے آیا، جب شمالی دہلی کے سروپ نگر علاقے میں کشک روڈ پر جے پال رانا کے کھیت کے قریب ایک بری طرح سڑی گلی لاش ملی۔ حالت ایسی تھی کہ شروع میں پولیس یہ بھی طے نہیں کر پائی کہ لاش لڑکے کی ہے یا لڑکی کی۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق تحقیقات کے بعد متاثرہ کی شناخت کی گئی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس واردات کو 4 لوگوں نے انجام دیا، جن میں 3 نابالغ ہیں۔ ملزمان نے بعد میں لڑکی کی لاش کو کھلے علاقے میں پھینک دیا تھا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ ملزمان کو جانتی تھی اور ان کے ساتھ ٹیمپو میں سفر کر رہی تھی۔ سفر کے دوران سبھی نے شراب پی اور پھر لڑکی کے ساتھ عصمت دری کی گئی۔ اس کے بعد چاقو سے وار کر کے اس کا قتل کر دیا گیا اور لاش کھلے کھیت میں پھینک دی گئی۔

Share this story

WhatsAppXFacebook