مختصر جواب
ایران میں ایک مسافر طیارہ اس وقت بڑے حادثے سے بچ گیا جب تہران کی سپہران ایئرلائنز کے بوئنگ 737 کا ٹائر پرواز کے دوران الگ ہو گیا اور انجن میں خرابی آ گئی، جس کے بعد اسے واپس مشہد ایئرپورٹ پر لینڈ کرنا پڑا۔
اہم نکات
- سپہران ایئرلائنز کے بوئنگ 737 طیارے کا ٹائر پرواز کے دوران الگ ہو گیا۔
- ٹائر الگ ہونے کے بعد طیارے کے انجن میں خرابی آ گئی اور وہ بری طرح کانپنے لگا۔
- طیارے میں سوار مسافروں میں شدید گھبراہٹ پھیل گئی اور چھت کا ایک حصہ ٹوٹ کر گر گیا۔
- پائلٹس نے تکنیکی خرابی کی اطلاع دی اور طیارے کو واپس مشہد ایئرپورٹ پر لینڈ کرایا۔
- طیارے میں سوار کسی بھی مسافر یا عملے کے رکن کو کوئی چوٹ نہیں آئی۔
- ایئرپورٹ اتھارٹی یا ایئرلائن کی جانب سے کوئی آفیشیل بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ایران میں ایک بڑا طیارہ حادثہ ہوتے ہوتے بچ گیا۔ تہران کی سپہران ایئرلائنز کے ایک بوئنگ 737 طیارے نے مشہد سے پرواز بھری تھی، لیکن اسے کچھ ہی دیر بعد واپس ایئرپورٹ پر لینڈ کرنا پڑا۔ طیارے کے پرواز بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد ہوا میں ایک ٹائر الگ ہو گیا، جس کے بعد انجن میں خرابی آ گئی۔ طیارے کو حادثے سے بچانے کے لیے اسے دوبارہ مشہد ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔
’سی این این‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پرواز کے دوران طیارے کا ایک ٹائر الگ ہو گیا تھا۔ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ٹائر الگ ہونے سے پہلے پھٹ گیا تھا۔ اس کے بعد انجن میں خرابی آئی تو پورا طیارہ بری طرح کانپنے لگا۔ طیارے میں سوار مسافر بری طرح گھبرا گئے۔ طیارے کے کانپنے کی وجہ سے اس کے اندر چھت کا ایک حصہ ٹوٹ کر گرنے لگا۔ اس کے کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
شمال مشرقی ایران کے مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا تھا، تبھی ٹیک آف کے فوراً بعد پائلٹس کو اس میں خرابی کا پتہ چلا۔ پائلٹس نے طیارے کا ٹائر نکلنے کے بعد فوراً مسافروں کو تکنیکی خرابی کی اطلاع دی۔ پرواز کے دوران طیارے میں کافی تیز جھٹکے لگنے لگے اور وہ زور زور سے ہلنے لگا۔ اس کے بعد طیارے کا رخ واپس مشہد ایئرپورٹ کی طرف موڑ دیا گیا۔
اچھی بات یہ ہے کہ طیارے میں سوار کسی بھی مسافر یا عملے کے رکن کو چوٹ نہیں آئی ہے۔ سبھی محفوظ ہیں، لیکن طیارے میں لگنے والے جھٹکوں کی وجہ سے اس کے اندر سامان رکھنے کے لیے بنائے گئے ڈبے کھل گئے تھے۔ اس معاملے پر اب تک ایئرپورٹ اتھارٹی یا ایئرلائن کی جانب سے کسی بھی طرح کا آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

