Surat Hal Logo

ڈاکٹر سنجکتا پراشر ’کوبرا‘ کی پہلی خاتون انسپکٹر جنرل مقرر

آسام کی آئرن لیڈی کے نام سے مشہور ڈاکٹر سنجکتا پراشر کو اہم کمانڈو یونٹ کی کمان سونپی گئی

ایک خاتون پولیس افسر وردی میں ملبوس کی تصویر۔
ڈاکٹر سنجکتا پراشر کی تقرری ’سی آر پی ایف‘ کی اہم کمانڈو یونٹ میں ایک تاریخی قدم ہے۔

مختصر جواب

ڈاکٹر سنجکتا پراشر کو ’کمانڈو بٹالین ریزولوٹ ایکشن‘ (کوبرا) کا انسپکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے، جو اس یونٹ کی پہلی خاتون آئی جی ہیں۔ وہ 2006 بیچ کی آئی پی ایس افسر ہیں اور تقریباً 21 برسوں کا پولیس سروس کا تجربہ رکھتی ہیں۔

اہم نکات

  • ڈاکٹر سنجکتا پراشر کو ’کوبرا‘ کا انسپکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے، جو اس یونٹ کی پہلی خاتون آئی جی ہیں۔
  • وہ 2006 بیچ کی آئی پی ایس افسر ہیں اور آسام-میگھالیہ کیڈر سے تعلق رکھتی ہیں۔
  • سنجکتا پراشر کو آسام میں سورش پسندی کے خلاف مہم میں ان کے اہم کردار کی وجہ سے ’آسام کی آئرن لیڈی‘ کہا جاتا ہے۔
  • انہوں نے سونت پور میں ایس پی رہتے ہوئے سی آر پی ایف اور پولیس کمانڈو کے ساتھ گھنے جنگلوں میں آپریشنز کی قیادت کی۔
  • سنجکتا پراشر نے ’نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی‘ میں ڈی آئی جی کے طور پر بھی خدمات انجام دی ہیں۔
  • ’کوبرا‘ یونٹ کو 2008-09 میں نکسل ازم اور بعد میں شمال مشرق میں سورش پسندی سے نمٹنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

’سینٹرل ریزرو پولیس فورس‘ (سی آر پی ایف) کی کمانڈو یونٹ ’کمانڈو بٹالین ریزولوٹ ایکشن‘ (کوبرا) کو پہلی بار ایک خاتون آئی جی ملی ہیں۔ 2006 بیچ کی آئی پی ایس افسر سنجکتا پراشر کو کوبرا کا انسپکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ سی آر پی ایف ہیڈ کوارٹر نے گزشتہ ہفتے ان کی تقرری کا حکم جاری کیا تھا۔ وہ 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر دانیش رانا کی جگہ لیں گی۔ آسام-میگھالیہ کیڈر کی آئی پی ایس افسر ڈاکٹر سنجکتا پراشر تقریباً 21 برسوں کا پولیس سروس تجربہ رکھتی ہیں۔ آسام میں سورش پسندی کے خلاف مہم میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ سنجکتا پراشر آسام کی آئرن لیڈی کے نام سے مشہور ہیں۔

ڈاکٹر سنجکتا پراشر نے آسام کے کئی حساس علاقوں میں سورش مخالف کارروائیوں کی قیادت کی۔ سونت پور میں ایس پی رہتے ہوئے وہ سی آر پی ایف اور پولیس کمانڈو کے ساتھ گھنے جنگلوں میں آپریشن میں شامل ہوتی تھیں اور خود اے کے-47 لے کر جوانوں کی قیادت کرتی تھیں۔ سنجکتا پراشر ملک کی بہادر پولیس افسران میں سے ایک ہیں۔ 2008 میں ابتدائی پوسٹنگ کے دوران سنجکتا پراشر کو آسام کے ادالگوڑی میں تعینات کیا گیا تھا۔ اس وقت بوڈو اور دیگر کمیونٹیز کے درمیان نسلی تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ سنجکتا پراشر نے موقع پر پہنچ کر سیکورٹی انتظامات سبھالنے اور حالات پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اگست 2016 میں آسام-اروناچل پردیش سرحد کے قریب پولیس، سی آر پی ایف اور آسام رائفلز کی مشترکہ مہم میں بھی سنجکتا نے قیادت کی۔ آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز پر فائرنگ اور گرینیڈ سے حملہ کیا گیا۔ مہم میں این ڈی ایف بی (ایس) کے 3 سورش پسند مارے گئے اور ہتھیار بھی بر آمد کیے گئے۔ 2014-15 کے دوران سنجکتا پراشر کی قیادت میں ہوئی مہم میں 16 سورش پسند مارے گئے اور 64 گرفتار کیے گئے تھے۔ سنجکتا پراشر کو سورش پسند تنظیموں کے ذریعہ دھمکی دیے جانے کی بھی خبریں آتی رہی ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے بے خوف ہو کر حساس علاقوں میں آپریشن اور پولیس قیادت کی ذمہ داریاں نبھائیں۔

سنجکتا پراشر ’نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی‘ (این آئی اے) میں ڈی آئی جی کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں۔ این آئی اے میں ڈی آئی جی کے طور پر انہیں قومی سلامتی سے وابستہ معاملوں کی جانچ کرنے، دہشت گردی اور سورش پسندی سے وابستہ نیٹ ورک کو سمجھنے اور ایجنسیوں کے ساتھ تال میل بیٹھانے کا تجربہ ملا۔ آئی پی ایس بننے کے بعد ان کی ابتدائی پوسٹنگ سورش پسندی سے متاثرہ علاقوں میں ہوئی۔ جنگلوں میں انہوں نے مسلح سورش پسندوں کا سامنا کیا۔ فلڈ لیڈرشپ اور مسلسل مہم کی کامیابیوں کے بعد انہیں آسام کی آئرن لیڈی کہا جانے لگا۔ آسام کے جنگلوں میں سورش پسند مخالفت مہم کی قیادت کرنے کی وجہ سے انہیں کوبرا یونٹ کا آئی جی بنایا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ کوبرا ’سی آر پی ایف‘ کی خصوصی کمانڈو فورس ہے، اسے 09-2008 میں نکسل ازم سے نمٹنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ بعد میں اس یونٹ کو شمال مشرق کی کچھ ریاستوں میں سورش پسند مخالف کارروائیوں میں بھی تعینات کیا گیا۔ منی پور میں تشدد سے نمٹنے کے لیے حال ہی میں کوبرا کی 2 یونٹ تعینات کی گئی ہے۔ ڈاکٹر سنجکتا پراشر کی تقرری اس لحاظ سے بھی خاص ہے، کیوں کہ پہلی بار سی آر پی ایف کی بے حد اہم آپریشن کمانڈو یونٹ کی کمان ایک خاتون آئی جی کے ہاتھوں آئی ہے۔ سنجکتا پراشر 3 اکتوبر 1979 آسام میں پیدا ہوئیں۔ ان کے شوہر سندیپ ککڑ بھی ایک انتظامیہ کے آفیسر ہیں۔ سنجکتا پراشر کا کنبہ بھی عوامی سروسز سے وابستہ رہا ہے۔ ان کے والد دلال چندر بروا آسام کے محکمۂ آبپاشی میں انجینئر تھے، وہیں ان کی والدہ مینا دیوی آسام ہیلتھ سروسز میں آفیسر رہی ہیں۔

سنجکتا پراشر کی ابتدائی تعلیم گوہاٹی کے ہولی چائیلڈ اسکول میں ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے نارنگی میں واقع آرمی اسکول سے 12 ویں جماعت تک کی تعلیم حاصل کی۔ اعلی تعلیم کے لیے انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے اندر پرستھ کالج سے پولیٹیکل سائنس کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) سے انٹر نیشنل ریلیشنس میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد یو ایس فارین پالیسی میں ایم فل اور پھر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ 2006 میں سنجکتا پراشر نے یو پی ایس سی سول سروسز کا امتحان پاس کیا اور آل انڈیا رینک 85 حاصل کی۔ بہتر رینک کی وجہ سے ان کے پاس آئی اے ایس سروسز کا بھی متبادل تھا، لیکن انہوں نے آئی پی ایس منتخب کیا۔ سنجکتا پراشر نے آسام-میگھالیہ کیڈر منتخب کیا اور اپنی ریاست میں لوٹ گئیں۔ بعد میں انہوں نے صنفی امتیاز کے حوالے سے ’جینڈر از ان دی مائینڈ‘ کے موضوع پر کتاب لکھی۔ ان کا کیریئر بھی اسی فکر کی ایک مثال بن گیا۔ آئی پی ایس بننے کے بعد ان کی پہلی پوسٹنگ 2008 آسام کے ماکم میں اسسٹنٹ کمانڈینٹ کے طور پر ہوئی۔ پوسٹنگ کے کچھ عرصے کے بعد انہیں ادالگوڑی بھیج دیا گیا، جہاں بوڈو اور بنگلہ دیش سے آئے مہاجرین کے درمیان تشدد کا ماحول تھا۔ یہ ان کے کیریئر کا ابتدائی فلڈ تجربہ تھا۔

Share this story

WhatsAppXFacebook