مختصر جواب
دھیرے دھیرے لوٹتے مانسون نے ملک کے کئی حصوں میں شدید بارش اور سیلاب سے تباہی مچائی ہے، جس سے اتر پردیش اور بہار میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
اہم نکات
- اتر پردیش کے لکھیم پور میں شاردا ندی کے کٹاؤ سے 7 مکانات بہہ گئے
- بہار میں 15 اضلاع کی 575 پنچایتوں کے 50 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہیں
- بہار کے کٹیہار ضلع میں اسکول اور کوچنگ سینٹر سیلاب کی نذر ہوگئے
- اتر پردیش کے 26 اضلاع میں سیلاب جیسے حالات ہیں، 4 لاکھ افراد متاثر ہیں
- گجرات کے اونا علاقے میں 4 گھنٹوں میں 8 انچ سے زیادہ بارش ہوئی
ہندوستان میں مانسون کی وداعی ہو رہی ہے، لیکن جاتے جاتے مانسون کئی ریاستوں میں خوب تباہی پھیلا رہا ہے۔ کچھ ریاستوں میں اب بھی مانسون پوری طرح فعال دکھائی دے رہا ہے، جس کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہے۔ اتر پردیش اور بہار کے علاوہ پنجاب، راجستھان و گجرات میں بھی موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
اتر پردیش میں لگاتار ہو رہی بارش کے سبب 26 اضلاع میں سیلاب جیسے حالات بنے ہوئے ہیں، جس سے تقریباً 4 لاکھ کی آبادی پریشانیوں میں مبتلا ہے۔ لکھیم پور میں شاردا ندی کے تیز کٹان سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے اندر 7 پختہ مکانات ندی میں سما گئے ہیں۔ سدھارتھ نگر میں ایک عمارت کی دیوار بھربھرا کر گرنے کی بھی خبر سامنے آئی ہے۔ علاوہ ازیں سہارنپور واقع سدھ پیٹھ ماں شاکمبھری دیوی مندر کے پاس برساتی ندی میں آئی طغیانی کے بعد پولیس و انتظامیہ نے عقیدتمندوں کو فوراً محفوظ مقامات پر جانے کا الرٹ جاری کیا ہے۔ اس درمیان محکمہ موسمیات نے بدھ کے روز بھی ریاست کے 56 اضلاع میں بارش کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ یعنی حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔
بہار میں بھی کئی اضلاع سیلاب کا سامنا کر رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ 15 اضلاع کی 575 پنچایتوں میں تقریباً 50 لاکھ افراد سیلاب کے پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کٹیہار ضلع میں کئی سرکاری اسکول اور کوچنگ ادارے پانی میں ڈوب چکے ہیں، جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ آج بہار کے 26 اضلاع میں بارش اور آسمانی بجلی گرنے کا یلو الرٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔ زیادہ بارش ہونے کی صورت میں لوگوں کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں اور کھانے پینے کا بڑا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔
راجستھان اور گجرات میں بھی حالات بہت اچھے نہیں ہیں۔ راجستھان کے پالی ضلع میں منگل کے روز اچانک ہوئی موسلادھار بارش نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا۔ جئے پور کے موسمیاتی سائنس مرکز نے 17 ستمبر تک بارش کا دور جاری رہنے کا الرٹ بھی جاری کیا ہے۔ گجرات کی بات کریں تو اونا علاقہ میں محض 4 گھنٹوں کے دوران 8 انچ سے زیادہ بارش درج کی گئی ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں موجود 200 سے زائد مکانات میں پانی بھر گیا ہے۔

