مختصر جواب
رام مندر عطیات چوری کیس میں پولیس نے بدھ کو تمام 8 ملزمان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے، جس سے ان کے ڈیفالٹ بیل حاصل کرنے کا امکان ختم ہو گیا ہے۔
اہم نکات
- پولیس نے 8 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔
- ملزمان کے ڈیفالٹ بیل حاصل کرنے کا امکان ختم ہو گیا ہے۔
- ایس آئی ٹی نے سی سی ٹی وی فوٹیج میں چوری کے 105 واقعات کی نشاندہی کی۔
- ملزمان نے 79.85 لاکھ روپے نقد چھپا کر رکھے تھے، جو برآمد کر لیے گئے ہیں۔
- ملزمان میں بینک ملازمین، سپروائزر اور ٹرسٹ کا سابق ڈرائیور شامل ہیں۔
رام مندر عطیات چوری معاملے میں پولیس نے بدھ کی صبح تمام 8 ملزمان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ پولیس کی جانب سے چارج شیٹ داخل کیے جانے کے بعد اب ملزمان کے ’ڈیفالٹ بیل‘ (ضمانت) حاصل کرنے کا امکان ختم ہو گیا ہے۔ دراصل اسپیشل کورٹ نے انوکلپ مشرا، کرونیش پانڈے اور لوکش مشرا کی ضمانت عرضی خارج کر دی تھی۔ عدالت نے پیر کو اویناش شکلا، رما شنکر مشرا اور منیش یادو کی بھی ضمانت عرضی خارج کر دی تھی۔ اس کے بعد باقی بچے 2 دیگر ملزمان رام شنکر یادو عرف ٹنو اور سبھاش چندر شریواستو کی ضمانت عرضی پر آج اسی عدالت میں سماعت ہونی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں رام مندر عطیات چوری کا معاملہ موضوع بحث رہا ہے۔ اس معاملے میں ملزمان بھیڑ کا فائدہ اٹھا کر بینک ملازمین اور مندر کے کچھ اسٹاف کی ملی بھگت سے عطیات کے صندوقوں سے پیسے چوری کرتے تھے۔ جون کے مہینے میں ’شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ‘ کی درخواست پر اتر پردیش حکومت نے ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ اس کے بعد 8 نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
ایس آئی ٹی نے سپریم کورٹ کو اپنی اسٹیٹس رپورٹ میں بتایا ہے کہ کاؤنٹنگ روم کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں چوری کے 105 واقعات سامنے آئے ہیں، جہاں غیر مجاز طریقے سے نقد رقم نکالی یا چھپائی گئی۔ شروع میں صرف 70 واقعات کا شبہ تھا۔ فوٹیج میں ملزمان نوٹوں کی گڈیاں جیبوں اور جوتوں میں چھپاتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ تفتیشی ایجنسیوں نے اب تک ملزمان کے پاس سے تقریباً 79.85 لاکھ روپے نقد برآمد کیے ہیں۔ انہوں نے یہ رقم اپنے گھروں، بیت الخلاء اور بھوسے کے ڈھیروں میں چھپا کر رکھی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ ایودھیا کی خصوصی عدالت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مرکزی ملزمان اویناش شکلا، منیش یادو، رما شنکر مشرا، انوکلپ مشرا، کرونیش پانڈے اور لوکش مشرا کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔ ملزمان میں بنیادی طور پر نقد رقم کی گنتی کے لیے تعینات بینک ملازمین، سپروائزر سبھاش شریواستو اور ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری کے سابق ڈرائیور رام شنکر عرف ٹنو یادو شامل ہیں۔

