مختصر جواب
ہندوستان میں تاجروں نے 2 اکتوبر کو ’نو یو پی آئی ڈے‘ منانے کا اعلان کیا ہے تاکہ یو پی آئی لین دین پر لگنے والے 0.4 فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) چارج کی مخالفت کی جا سکے۔ اس دن تاجر یو پی آئی سے ادائیگی قبول نہیں کریں گے۔
اہم نکات
- تاجر 2 اکتوبر کو گاندھی جینتی کے موقع پر ’نو یو پی آئی ڈے‘ منائیں گے۔
- اس دن تاجر یو پی آئی سے ادائیگی قبول نہیں کریں گے، صرف کیش یا کارڈ سے خریداری ہوگی۔
- تاجر یو پی آئی لین دین پر 0.4 فیصد ’مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ‘ (ایم ڈی آر) چارج کی مخالفت کر رہے ہیں۔
- 23 ستمبر کو مدھیہ پردیش میں ’نو یو پی آئی ڈے‘ منایا گیا، جس سے 25 فیصد کاروبار متاثر ہوا۔
- 15 اکتوبر سے 2000 روپے سے زیادہ کے پیئر ٹو مرچنٹ یو پی آئی لین دین پر 0.40 فیصد فیس لگے گی، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 300 روپے ہے۔
’یو پی آئی‘ چارج کے خلاف پورے ملک میں تاجروں کے احتجاجی مظاہرے شروع ہو چکے ہیں۔ اب ’فیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈ بورڈ‘ (ایف اے آئی وی ایم) اور ’کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس‘ (سی اے آئی ٹی) جیسی اہم تجارتی تنظیموں نے گاندھی جینتی یعنی 2 اکتوبر کو ’نو یو پی آئی ڈے‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 2 اکتوبر کو تاجر یو پی آئی سے پیمنٹ نہیں لیں گے اور عوام کو کیش یا کارڈ سے ہی سامان خریدنا ہوگا۔ تاجر یو پی آئی لین دین پر لگنے والے 0.4 فیصد ’مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ‘ (ایم ڈی آر) چارج کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ پٹرول، ڈیزل، جنرل اسٹور، الیکٹرانکس اور اناج پر پہلے ہی بہت کم مارجن ہے۔ اب اس پر نئے ٹیکس لگائے جانے سے اضافی مالی بوجھ بڑھے گا۔ اندور ریٹیل گارمنٹس ایسوسی ایشن نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ اگر 15 اکتوبر سے پہلے فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو یو پی آئی کیو آر کوڈ مشینوں کو پانی میں بہا دیا جائے گا۔
حکومت کے اس فیصلے پر تاجروں میں بہت زیادہ ناراضگی محسوس کی جا رہی ہے۔ ناراض تاجروں نے 23 ستمبر کو مدھیہ پردیش کے بھوپال، اندور، جبل پور اور گوالیار جیسے شہروں کی تقریباً 125 تجارتی تنظیموں نے ’نو یو پی آئی ڈے‘ منایا، جس کی وجہ سے ریاست میں تقریباً 25 فیصد کاروبار متاثر ہوا۔ ’مہاراشٹر چیمبر آف کامرس‘ (ایم اے سی سی آئی اے) اور پٹرول پمپ ڈیلرس ایسوسی ایشن بھی اس تحریک کی حمایت کر رہے ہیں۔ ’بزنس سسٹینڈرڈ رپورٹ‘ کے مطابق ایم اے سی سی آئی اے (مہاراشٹر چیمبر آف کامرس، انڈسٹری اینڈ ایگریکلچر) کے صدر رویندر منگوے نے کہا ہے کہ 2 اکتوبر کو ’نو یو پی آئی ڈے‘ کے طور پر منایا جائے گا۔
رویندر منگوے نے کہا کہ ہم نے پورے ملک میں سبھی تجارتی تنظیموں سے بات کی ہے اور نہ صرف مہاراشٹر میں بلکہ دوسری ریاستوں نے بھی ’نو یو پی آئی ڈے‘ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایم اے سی سی آئی اے اور اس سے وابستہ 500 تنظمیں وزیر اعلی سے ملاقات کرکے اپنے مطالبات رکھنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’فیڈریشن آف ریٹیل ٹریڈرس ویلفیئر ایسوسی ایشن‘ (ایف آر ٹی ڈبلیو اے)، ’آل انڈیا کنزیومر پروڈکٹس ڈسٹری بیوٹرد فیڈریشن‘ (اے آئی سی پی ڈی ایف)، ’آل انڈیا موبائل ریٹیلرز ایسوسی ایشن‘ (اے آئی ایم آر اے)، ’آل انڈیا جیولرز اینڈ گولڈ اسمتھ فیڈریشن‘ (اے آئی جے گی ایف)، اور ’آل انڈیا خوردنی تیل تاجر فیڈریشن‘ (اے آئی ای او ٹی ایف) ملک کی کچھ اہم تنظیمیں ہیں جو 2 اکتوبر کو ’نو یو پی آئی ڈے‘ کی حمایت کریں گی۔
ایم ڈی آر ایک قسیم کی پروسیسنگ فیس ہے، جو ڈیجیٹل پیمنٹ کو قبول کرنے کے لیے مرچنٹ سے چارج کیا جاتا ہے۔ جب آپ کسی دوکان پر کیو آر کوڈ اسکین کرکے یا کارڈ سوائپ کرکے پیمنٹ کرتے ہیں تو اس رقم کو صارفین کے بینک کھاتے سے دوکاندار کے بینک کھاتے تک محفوظ طریقے سے پہچایا جاتا ہے۔ جس کے پیچھے پورا ڈیجیٹل نیٹ ورک (بینک، پیمنٹ گیٹ وے، ویزا/ماسٹر کارڈ/این پی سی آئی) کام کرتا ہے۔ اس ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو تیار کرنے اور اس کی حفاظت کو برقرار رکھنے میں آئے خرچ کو ایم ڈی آر کہا جاتا ہے۔ حکومت کے نئے فیصلے کے تحت 2000 سے زیادہ کے پیئر ٹو مرچنٹ (پی2ایم) یو پی آئی لین دین پر 15 اکتوبر سے 0.40 فیصد کی فیس لگے گی۔ زیادہ سے زیادہ حد 300 روپے ہے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ چاہے لین دین ایک لاکھ روپے ہو یا 10 لاکھ روپے ہو، تاجروں سے 300 روپے سے زیادہ فیس نہیں وصولی جائے گی۔ ٹیکس کی رقم صرف 300 روپے پر منجمد کر دی جائے گی۔

