Surat Hal Logo

سعودی عرب نے ینبع بندرگاہ سے تیل کی ترسیل روک دی، بحیرہ احمر کا بحران گہرا

یورپ کے لیے ستمبر کی تیل کی ترسیل منسوخ، عالمی توانائی بازار میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

دو بحری جہاز نیلے سمندر میں سفر کر رہے ہیں، ایک قریب اور ایک دور۔
عالمی توانائی بازار کو شدید جھٹکا لگا ہے کیونکہ سعودی عرب نے ینبع بندرگاہ سے تیل کی ترسیل روک دی ہے۔

مختصر جواب

سعودی عرب نے ینبع بندرگاہ سے تیل کی ترسیل روک دی ہے اور ستمبر کی یورپی ترسیل منسوخ کر دی ہے، جس سے بحیرہ احمر کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔

اہم نکات

  • سعودی عرب نے ینبع بندرگاہ پر خام تیل کی لوڈنگ روک دی ہے۔
  • یورپی خریداروں کو ستمبر کی تیل کی سپلائی منسوخ ہونے کا باضابطہ نوٹس دیا گیا ہے۔
  • ڈرون حملے کے بعد ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن سے تیل کی ترسیل احتیاطاً روکی گئی تھی۔
  • ینبع ٹرمینل کا استعمال آبنائے ہرمز اور باب المندب سے بچنے کے لیے کیا جاتا تھا۔
  • لیبیا نے بھی 3 اہم تیل کے میدانوں سے ترسیل روک دی ہے۔

مغربی ایشیا اور بحیرۂ احمر کی راہداری میں بڑھتی فوجی کشیدگی کے درمیان عالمی توانائی بازار کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے شپنگ ذرائع کے حوالے سے اس بات کی تصدیق کی کہ سعودی عرب نے بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع اپنے اسٹریٹجک ینبع بندرگاہ پر خام تیل کی لوڈنگ مکمل طور پر روک دی ہے۔ اس فیصلہ کے بعد بین الاقوامی بازار میں منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 ڈالر فی بیرل کا اضافہ درج کیا گیا۔ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی ’سعودی آرامکو‘ نے ینبع ٹرمینل پر کام روکے جانے کی خبروں پر سرکاری تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے یورپی تیل خریداروں کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے کہ ستمبر کے آخری 15 دنوں میں ہونے والی خام تیل کی تمام طے شدہ سپلائی منسوخ کر دی گئی ہے۔ 3 دن قبل ہونے والے ڈرون حملہ کے بعد احتیاطی طور پر سعودی عرب کی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن سے تیل کی ترسیل روک دی گئی تھی، اور اب یورپ کی ڈیلیوری رد کرنے سے بحیرۂ احمیر کا بحران گہراتا دکھائی دے رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے لائف لائن مانی جاتی رہی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے آبنائے ہرمز اور باب المندب آبنائے سے گزرے بغیر تیل براہ راست ینبع ٹرمینل اور وہاں سے نہر سویز کے راستے یورپ پہنچایا جاتا تھا۔

حالیہ دنوں میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے آبنائے باب المندب پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے بعد سعودی عرب کے سمندری راستوں پر خطرہ کافی بڑھ گیا تھا۔ فروری میں جنگ بھڑکنے کے بعد سے آرامکو نے محفوظ متبادل کے طور پر ینبع ٹرمینل کا استعمال تیز کر دیا تھا، لیکن اب اس بندرگاہ پر بھی آپریشن رک جانے سے متبادل راستے محدود ہو گئے ہیں۔ عالمی بازار کی تشویش اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ اسی دوران لیبیا نے بھی اپنے 3 اہم تیل کے میدانوں سے ترسیل روک دی ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر توانائی کی سپلائی کو لے کر سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے۔

Share this story

WhatsAppXFacebook