مختصر جواب
تلنگانہ کے عادل آباد میں واقع راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (رمس) کے اسپیشل نیوبورن کیئر یونٹ میں اے سی یونٹ میں خرابی کے بعد آگ لگنے سے ایک 5 دن کا بچہ جاں بحق ہو گیا، جبکہ 23 دیگر بچوں کو فوری طور پر دوسرے اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔
اہم نکات
- عادل آباد کے رمس اسپتال میں اے سی یونٹ میں خرابی کے بعد آگ لگی۔
- حادثہ کے وقت وارڈ میں 24 بچے موجود تھے۔
- ایک قبل از وقت پیدا ہونے والے 26 ہفتہ کے بچے کی منتقلی کے دوران موت ہو گئی۔
- باقی 23 بچوں کو سپر اسپیشلٹی اور پرائیویٹ اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
- 3 حفاظتی اہلکاروں کا بھی علاج جاری ہے۔
- ضلع کلکٹر نے حادثے کی تفصیلی جانچ کا حکم دیا ہے۔
تلنگانہ کے عادل آباد واقع راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی رمس کے اسپیشل نیوبورن کیئر یونٹ میں منگل کی علی الصبح بڑا حادثہ پیش آیا۔ رات تقریباً 11.40 بجے اے سی یونٹ میں خرابی کے بعد آگ لگ گئی اور پورے وارڈ میں دھواں بھر گیا۔ حادثہ کے وقت وارڈ میں 24 بچے موجود تھے۔ ریسکیو کے دوران ایک قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے کی موت ہو گئی، جبکہ باقی 23 بچوں کو دوسرے اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔
عادل آباد کے ضلع کلکٹر راج رِشی شاہ نے بتایا کہ تقریباً 26 ہفتہ کے ایک قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے کی منتقلی کے دوران موت ہوئی۔ باقی بچوں کو رِمس کے علاوہ سپر اسپیشلٹی اسپتال اور قریبی ان پرائیویٹ اسپتالوں میں بھیجا گیا، جہاں وینٹی لیٹر کی سہولت موجود تھی۔ 3 حفاظتی اہلکاروں کا بھی علاج چل رہا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ اے سی یونٹ میں الیکٹریکل شارٹ سرکٹ کے بعد آگ لگی۔ اس کے بعد وارڈ میں دھواں بھر گیا۔ اسپتال کے عملے، فائر بریگیڈ، پولیس اور طبی ٹیم نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا اور بچوں کو وارڈ سے باہر نکالا۔ دھوئیں کی زد میں آنے والے کچھ بچوں کو علاج کے لیے دوسرے اسپتالوں میں بھیجا گیا۔
فائر بریگیڈ کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پا لیا اور اسے اسپتال کے دوسرے وارڈوں تک پھیلنے سے روک لیا۔ واقعہ کے بعد ضلع کلکٹر راج رِشی شاہ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ اکھل مہاجن نے اسپتال پہنچ کر موقع کا جائزہ لیا۔ کلکٹر نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کا واقعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے کی تفصیلی جانچ کرائی جائے گی، تاکہ آگ لگنے کی صحیح وجہ اور کسی بھی طرح کی لاپروائی کا پتہ لگایا جا سکے۔ فی الحال انتظامیہ کی بنیادی توجہ تمام بچوں کی حفاظت اور ان کے علاج پر ہے۔ اسپتالوں میں بچوں کی نگرانی ماہر اطفال کر رہے ہیں اور ضرورت کے مطابق وینٹی لیٹر سمیت دیگر طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

