مختصر جواب
امریکہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل سینکڑوں پروازیں منسوخ ہو گئیں کیونکہ ملک کے شمال مشرقی علاقے میں ایئر ٹریفک سسٹم میں ایک بڑی تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی تھی، جس سے نیویارک اور فلاڈیلفیا کے ہوائی اڈے متاثر ہوئے۔
اہم نکات
- اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے عالمی رہنما نیویارک پہنچ رہے ہیں۔
- امریکہ کے شمال مشرقی علاقے میں ایئر ٹریفک سسٹم میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی۔
- پیر کے روز سینکڑوں پروازیں رد اور ہزاروں تاخیر کا شکار ہوئیں۔
- نیویارک کے جان ایف کینیڈی، لا گارڈیا اور نیوارک کے ہوائی اڈے متاثر ہوئے۔
- فلاڈیلفیا کے ایئر ٹریفک کنٹرول سینٹر میں ایک ضروری سرکٹ فیل ہو گیا۔
- بیک اپ فائبر آپٹک لائن بھی نیو جرسی میں تعمیراتی کاموں کے دوران کٹ گئی۔
امریکہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے عالمی لیڈران نیو یارک پہنچ رہے ہیں۔ اسی دوران ملک کے شمال مشرق علاقے میں ایئر ٹریفک سسٹم میں بڑی تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی، جس کے نتیجے میں پیر کے روز سینکڑوں پروازیں رد کر دی گئیں، اور ہزاروں پروازوں میں تاخیر ہوئی۔ نیویارک کے جان ایف کینیڈی، لا گارڈیا اور نیوارک کے ہوائی اڈوں کے ساتھ ساتھ فلاڈیلفیا کی پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
حالانکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی واشنگٹن ڈی سی سے نیو یارک کی فلائٹ طے شدہ وقت کے مطابق پرواز کی۔ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق فلاڈیلفیا کے ایئر ٹریفک کنٹرول سینٹر میں پیر کی صبح ایک ضروری سرکٹ فیل ہو گیا، اس کے بعد پتہ چلا کہ بیک اپ فائبر آپٹک لائن بھی نیو جرسی میں تعمیراتی کاموں کے دوران کٹ گئی تھی۔ یہ لائن نیو برنزوک اور نیوارک کے درمیان تھی۔
ایف اے اے کے ایڈمنسٹریٹر برائن بیڈفورڈ نے بتایا کہ مین لائن پر نیا سرکٹ لگانے اور بیک اپ فائبر لائن کی مرمت کا کام جاری ہے۔ ان کے مطابق فائبر لائن کی مرمت میں تقریباً 13 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ دوپہر تک لاگارڈیا اور فلاڈیلفیا سے کچھ فلائٹس دوبارہ شروع ہو گئی تھیں، لیکن پورے دن بڑے پیمانے پر تاخیر کا خدشہ برقرار رہا۔
یہ وہی فلاڈیلفیا ایف اے اے سینٹر ہے، جہاں تکنیکی دقتوں کی وجہ سے 2025 میں بھی نیوارک ایئرپورٹ پر بار بار پروازیں متاثر ہوئی تھیں۔ کچھ ایئر لائنس نے مسافروں کو بغیر کسی اضافی چارج کے اپنی فلائٹ تبدیل کرنے کی سہولت بھی مہیا کرائی۔ اسی دوران ایف اے اے نے ایک نئے کمپیوٹر سسٹم کی ٹیسٹنگ شروع کی ہے، جو اے آئی کی مدد سے شیڈول ٹکراؤ اور موسمی دقتوں کا اندازہ لگانے میں مدد کرے گا۔ فی الحال اس کی ٹیسٹنگ صرف واشنگٹن ڈی سی علاقے میں ہو رہی ہے اور موجودہ تکنیکی خرابی سے اس کا کوئی واسطہ نہیں بتایا گیا ہے۔

