Surat Hal Logo

امریکی بحریہ کے 8 فوجیوں کی خودکشی کی کوشش، طویل ڈیوٹی اور پانی کی قلت کا انکشاف

یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات فوجیوں نے سخت مشن کے دوران خودکشی کی کوشش کی، حالات کی سنگینی پر سوالات اٹھائے گئے

ایک طیارہ بردار جہاز سمندر میں سفر کر رہا ہے، جس کے اوپر کئی طیارے کھڑے ہیں اور ایک طیارہ اڑ رہا ہے۔
امریکی بحریہ کے جنگی جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات فوجیوں کی ڈیوٹی کی مدت میں اضافہ کیا گیا تھا

مختصر جواب

امریکی بحریہ کے 8 فوجیوں نے طویل ڈیوٹی اور پانی کی قلت کے باعث خودکشی کی کوشش کی، جس پر سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اہم نکات

  • یو ایس ایس ابراہم لنکن پر 8 امریکی بحری فوجیوں نے خودکشی کی کوشش کی
  • طویل مشن اور ڈیوٹی کی مدت میں بار بار اضافہ وجہ بنا
  • جہاز پر پینے کے صاف پانی کی کمی اور خراب حالات کی شکایات
  • بحریہ نے بڑے ذہنی صحت کے بحران سے انکار کیا ہے
  • سینیٹر گلیبرینڈ نے حکومت کے ردعمل کو ناقابل قبول قرار دیا
  • جہاز نومبر میں روانہ ہوا تھا اور تقریباً 9 ماہ بعد واپس لوٹ رہا ہے

امریکی بحریہ کے جنگی جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ پر تعینات 8 امریکی بحری فوجیوں نے طویل اور سخت مشن کے دوران خودکشی کی کوشش کی۔ بحریہ کے کارگزار سکریٹری ہنگ کاؤ نے امریکی سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ کو لکھے ایک خط میں اس بات کی تصدیق کی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے منسلک مہموں کے سبب اس جنگی جہاز پر تعینات بحری فوجیوں کی ڈیوٹی کی مدت بار بار بڑھائی جا رہی تھی۔ بحری فوجیوں کے کنبوں نے شکایت کی تھی کہ اتنے طویل مشن کے سبب فوجیوں کی ذہنی صحت بگڑ رہی ہے اور جہاز پر رہنے کی حالت بہت خراب ہو چکی ہے۔

رپورٹس کے مطابق جہاز پر پینے کے صاف پانی کی کمی، خراب پلمبنگ اور تازہ کھانے کی قلت کی باتیں سامنے آئی تھیں۔ بحریہ نے کسی بھی بڑے ذہنی صحت بحران سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پائپ لائنوں میں کچھ وقت کے لیے خرابی آئی تھی اور کھانے کے متبادل میں تھوڑی تخفیف ہوئی تھی، لیکن اب حالات قابو میں ہیں۔ جہاز پر فوجیوں کی مدد کے لیے 5 مذہبی مشیر اور کئی ذہنی صحت کے ماہر موجود تھے۔

سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ نے ٹرمپ حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جن مسائل کو پہلے ’فرضی خبر‘ کہہ کر خارج کیا جا رہا تھا، وہ دراصل بحری فوجیوں کے لیے بے حد سنگین تھے۔ انھوں نے فوجیوں کے ساتھ ایسے سلوک کو پوری طرح سے ناقابل قبول بتایا۔ قابل ذکر ہے کہ یہ جنگی جہاز گزشتہ سال نومبر میں کیلیفورنیا سے روانہ ہوا تھا۔ مئی میں اس کی واپسی طے تھی، لیکن مشن کی مدت بار بار بڑھا دی گئی۔ تقریباً 9 ماہ کے طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد اب یہ جہاز امریکہ لوٹ رہا ہے۔ واپسی کے راستے میں امریکی فوجیوں کو تھائی لینڈ میں کچھ وقت کے لیے رکنے اور آرام کرنے کا موقع ملا۔

Share this story

WhatsAppXFacebook