مختصر جواب
’فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا‘ (ایف ایس ایس اے آئی) نے 5 آن لائن فوڈ ڈیلیوری کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہے کیونکہ ان پر غلط معلومات دینے، جھوٹے دعوے کرنے اور زہریلی اشیاء فروخت کرنے کے الزامات ہیں۔
اہم نکات
- ’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے امیزون، فلپکارٹ انڈیا، سویگی انسٹامارٹ، بگ باسکٹ اور زیپٹو کے خلاف کارروائی کی ہے۔
- کمپنیوں پر غلط برانڈنگ اور گمراہ کن دعوے کرنے کا الزام ہے۔
- ملکی مسٹ کے ڈیری پروڈکٹس کے بارے میں غلط معلومات فراہم کی گئیں۔
- امیزون سیلر سروس، سویگی انسٹا مارٹ اور بگ باسکٹ پر دھتورا فروخت کیا جا رہا تھا۔
- دھتورا کی فروخت فوڈ سیفٹی ایکٹ 2006 کی خلاف ورزی ہے۔
- ’ایف ایس ایس اے آئی‘ گزشتہ 6 مہینوں سے فوڈ بزنس آپریٹرز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
’فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا‘ (ایف ایس ایس اے آئی) نے ہندوستان کی 5 مشہور ای کامرس کمپنیوں کے خلاف قانونی سزا اور سخت کارروائی کیے جانے کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کمپنیوں پر عوام کو غلط اطلاع دینے، جھوٹے دعوے کرنے اور یہاں تک کہ دھتورا جیسی زہریلی اور ممنوعہ اشیاء فروخت کرنے کے سنگین الزامات لگے ہیں۔ آج کل لوگوں کی زندگی آن لائن ایپ پر بہت زیادہ منحصر ہے۔ روزمرہ کی تمام ضرورتیں آن لائن ایپ سے پوری ہوتی ہیں، لیکن حال ہی میں ’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے، جس نے آن لائن شاپنگ کرنے والوں کے ہوش اڑا دیے ہیں۔
’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے آفیشیل طور پر مطلع کیا ہے کہ اس نے ملک کے 5 سب سے بڑے آن لائن پلیٹ فارمز پر جرمانہ عائد کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ان میں امیزون، فلپکارٹ انڈیا، سویگی انسٹامارٹ، بگ باسکٹ اور زیپٹو کے نام شامل ہیں۔ ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صارفین کو غلط اور خطرناک سامان فروخت کیا جا رہا ہے۔ ’ایف ایس ایس اے آئی‘ کے مطابق ان کمپنیوں پر سب سے پہلا اور بڑا الزام غلط برانڈنگ اور گمراہ کن دعوے کا ہے۔ مطلب یہ کہ پیکیٹ کے باہر کچھ اور لکھا ہوتا تھا اور اندر کچھ اور نکلتا تھا۔ مثلاً ’ہیپیلو پریمیم ڈیٹ بائٹس - زیسٹی آرینج‘ نام کے ایک پروڈکٹ پر کیے گئے دعوے کو ’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے جھوٹ اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ اس پروڈکٹ کے معاملے میں ’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے امیزون، فلپکارٹ، سویگی انسٹامارٹ، زیپٹو اور بگ باسکٹ پر کارروائی کی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ کمپنیاں صارفین کو صحت کے نام پر ایسے پروڈکٹ فروخت کر رہی تھیں، جن پر کیے گئے دعوے مکمل طور پر فرضی تھے۔ اگر آپ ورک آؤٹ کرتے ہیں یا اپنی ڈائٹ میں دہی، پنیر اور کریم کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں تو ملکی مسٹ کا نام ضرور سنا ہوگا۔ ’ایف ایس ایس اے آئی‘ کی جانچ میں انکشاف ہوا ہے کہ سویگی انسٹامارٹ اور بگ باسکٹ پر ملکی مسٹ کے کچھ ڈیری پروڈکٹس سے متعلق غلط اطلاع دی جا رہی تھی۔ ان میں ملکی مسٹ فریش لو فیٹ کریم، ملکی مسٹ فارم فریش کرڈ اور ملکی مسٹ گریک یوگرٹ جیسے مشہور پروڈکٹ شامل ہیں۔ ان پروڈکٹس کی اطلاع اصول و ضوابط کے مطابق صحیح نہیں ہے اور صارفین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی وجہ سے ’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے ان دونوں پلیٹ فارمز کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے۔
اس مکمل کارروائی میں سب سے زیادہ حیران کن بات جو سامنے آئی ہے، وہ دھتورے کا فروخت کیا جانا ہے۔ دھتورا ایک ایسا پھل یا بیج ہوتا ہے، جو صحت کے لیے بے حد زہریلا اور خطرناک مانا جاتا ہے۔ ’ایف ایس ایس اے آئی‘ اصول و ضوابط کے مطابق اسے آن لائن فروخت کرنا یا ڈسپلے کرنا، مکمل طور پر غیر قانونی اور ممنوع ہے۔ اس کے باوجود امیزون سیلر سروس، سویگی انسٹا مارٹ اور بگ باسکٹ پر دھتورا فروخت کیا جا رہا ہے، اور یہ سیدھے طور پر فوڈ سیفٹی ایکٹ 2006 کی خلاف ورزی ہے اور صارفین کی زندگی کے ساتھ بہت بڑا کھلواڑ بھی۔
میڈیا اور ایجنسیوں نے اس پورے معاملے پر امیزون، سویگی، بگ باسکٹ، فلپکارٹ اور زیپٹو جیسی کمپنیوں سے ای میل کے ذریعہ ان کا موقف جاننے کی کوشش کی تو کسی بھی کمپنی کی جانب سے فوراً کوئی جواب نہیں آیا۔ بیشتر کمپنیوں نے اس معاملے پر فی الحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ لیکن ’ایف ایس ایس اے آئی‘ نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈلس پر وضاحت کر دی ہے کہ وہ اب اس قسم کی لاپروائی کو برداشت نہیں کریں گے اور قصورواروں پر جرمانہ اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ’ایف ایس ایس اے آئی‘ گزشتہ 6 مہینوں سے صرف ان ایپ ہی نہیں، بلکہ ملک کے فوڈ بزنس آپریٹرز (ایف بی او) پر نظر رکھے ہوئی ہے۔
’ایف ایس ایس اے آئی‘ کا مقصد آن لائن کھانا فروخت کرنے والی کپنیوں کی منمانی پر لگام لگانا ہے۔ ریگولیٹر اب نہ صرف ایکشن لے رہا ہے، بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعہ عوام کو بھی بیدار کر رہا ہے، تاکہ لوگ بغیر سوچے سمجھے کوئی پروڈکٹ آن لائن نہ خریدیں۔ 10 منٹ ڈیلیوری ملنے کی وجہ سے اکثر پروڈکٹ کی غذائیت، میعاد ختم ہونے کی تاریخ، یا ایف ایس ایس اے آئی لائسنس چیک کرنا بھول جاتے ہیں، جبکہ ان چیزوں پر توجہ دینا بے حد ضروری ہے۔ اگر کسی پروڈکٹ پر شک ہوتا ہے تو ’ایف ایس ایس اے آئی‘ کی ویب سائٹ یا ایپ پر جا کر اس کی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔

