مختصر جواب
اتراکھنڈ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے دوران 95 ہزار سے زائد ووٹرز کو نااہل قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ یا تو مطلوبہ دستاویزات پیش نہیں کر سکے یا سماعت میں شامل نہیں ہوئے۔ کانگریس نے اس عمل پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔
اہم نکات
- اتراکھنڈ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی تنازعہ کا شکار ہو گئی ہے۔
- تقریباً 1 لاکھ 73 ہزار فارم-7 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 95 ہزار سے زائد ووٹرز نااہل قرار دیے گئے۔
- نااہل قرار دیے گئے ووٹرز یا تو دستاویزات پیش نہیں کر سکے یا سماعت میں شامل نہیں ہوئے۔
- کانگریس نے 42,030 فارم-7 درخواستوں کے اے ای آر او کے نام پر اور 22,443 درخواستوں کے ای آر او کے نام پر درج ہونے پر سوال اٹھایا۔
- الیکشن دفتر نے یقین دلایا ہے کہ حتمی فہرست کے بعد بھی فارم-6 کے ذریعے نام شامل کرائے جا سکیں گے۔
- نئے اہل ووٹرز کے نام شامل کرنے کے لیے خصوصی مہم چلانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو لگاتار تنقید کا سامنا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس نے ایسے انکشافات کیے ہیں، جس سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کٹہرے میں کھڑا نظر آ رہا ہے۔ اب اتراکھنڈ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی تنازعہ کا شکار ہو گئی ہے۔ چیف الیکشن افسر کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ 14 جولائی 2026 کو جاری کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ پر دعوے اور اعتراضات کی سماعت ابھی جاری ہے اور حتمی فہرست 3 اکتوبر 2026 کو جاری کی جائے گی۔ اس دوران تقریباً 1 لاکھ 73 ہزار فارم-7 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 95 ہزار سے زیادہ ووٹرز کو ’اَن ایلیجبل‘ یعنی نااہل کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس معاملے پر کانگریس نے سوال اٹھایا ہے۔
الیکشن دفتر کے مطابق جن ووٹرز کو نااہل قرار دیا گیا ہے، وہ یا تو سماعت کے وقت طلب کیے گئے دستاویزات پیش نہیں کر سکے یا خود یا خاندان کے کسی رکن کے ذریعہ سماعت میں شامل ہی نہیں ہوئے۔ ایسے معاملات میں متعلقہ ای آر او یا اے ای آر او نے ای-سائن کے ذریعہ ووٹر کو نااہل قرار دے دیا، جس کے بعد سسٹم نے خود بخود فارم-7 تیار کر کے اس نام کو فہرست سے ہٹانے کے لیے نشان زد کر دیا۔ اس پورے عمل کی معلومات سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مسلسل شیئر کی جا رہی ہیں۔ اسمبلی کی سطح پر ای آر او، ضلع کی سطح پر ڈی ای او اور ریاستی سطح پر سی ای او تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ میٹنگیں کر رہے ہیں۔
اسی دوران کانگریس کی اتراکھنڈ انچارج کماری شیلجا نے الزام لگایا کہ 42,030 فارم-7 درخواستیں اے ای آر او کے نام پر اور 22,443 درخواستیں ای آر او کے نام پر درج ہوئی ہیں، جبکہ یہ تمام ووٹرز پہلے سے ڈرافٹ لسٹ میں شامل تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس افسر کو فیصلہ کرنا ہے، درخواست اسی کے نام سے کیسے درج ہو گئی۔ انہوں نے اتراکھنڈ اور پنجاب کے اعداد و شمار میں فرق پر بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ کیا یہ فارم خود الیکٹورل سافٹ ویئر کے ذریعے تیار ہو گئے؟
قابل ذکر بات یہ ہے کہ الیکشن آفس نے یقین دلایا ہے کہ حتمی ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد بھی فارم-6 کے ذریعے نیا نام شامل کرایا جا سکے گا۔ اس کے لیے ضروری دستاویزات پیش کرنے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی نئے اہل ووٹرز کے نام شامل کرنے کے لیے خصوصی مہم چلانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔

