Surat Hal Logo

کلکتہ ہائی کورٹ نے ’لفافہ‘ نشان کی تقسیم پر برہم

عدالت نے انتخابی نشان کی تقسیم پر غیر جانبدارانہ رویہ اپنانے پر زور دیا

سرخ اور کریم رنگ کی بڑی عمارت، درمیان میں اونچی گھنٹی، اردگرد درخت اور مجسمہ
مغربی بنگال ضمنی انتخاب میں ’لفافہ‘ نشان کی تقسیم پر کلکتہ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے سوالات کیے۔

مختصر جواب

کلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال کے ضمنی انتخاب میں ’لفافہ‘ نشان کی تقسیم پر الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھایا اور امتیاز کے بغیر اصول برتنے کی بات کہی۔

اہم نکات

  • کلکتہ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھایا۔
  • عدالت نے ’لفافہ‘ نشان دینے کے فیصلے پر وضاحت طلب کی۔
  • عدالت نے امتیاز کے بغیر کام کرنے کی ہدایت کی۔
  • آئی ایس ایف نے نشان دینے سے روکنے کی اپیل کی۔
  • نندی گرام اور ریجی نگر میں 6 اکتوبر کو ضمنی انتخاب ہوں گے۔

کلکتہ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے بڑا تبصرہ کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ مغربی بنگال ضمنی انتخاب کے لیے ٹی ایم سی کے باغی گروپ ’ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ کو انڈین سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) کا ’لفافہ‘ انتخابی نشان کہاں تک مناسب ہے۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو غیر جانبدار اور بغیر امتیاز کے کام کرنا چاہیے۔ عدالت نے مزید کہا کہ جب اس پر اعتراض کیا گیا ہے تو پھر اسی انتخابی نشان کو کیوں شامل کیا جا رہا ہے؟ کیونکہ کچھ ماہ قبل ہی اسے دوسری پارٹی نے استعمال کیا تھا اور آپ کے پاس 183 انتخابی نشان موجود ہیں۔ عدالت نے کہا کہ آپ غیر جانبدار ہونے کے بجائے اصول و ضوابط سامنے رکھ رہے ہیں۔

انڈین سیکولر فرنٹ نے بدھ (23 ستمبر) کو کلکتہ ہائی کورٹ سے اپیل کی تھی کہ وہ الیکشن کمیشن کو ٹی ایم سی کے باغی گروپ کو ’لفافہ‘ انتخابی نشان دینے سے روکے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے حال ہی میں نوشاد صدیقی کی قیادت والی آئی ایس ایف کو ’لفافہ‘ کی جگہ ’الماری‘ انتخابی نشان دیا ہے۔ آئی ایس ایف نے 2024 کا لوک سبھا انتخاب اور رواں سال اپریل میں مغربی بنگال کا اسمبلی انتخاب ’لفافہ‘ نشان پر لڑا تھا۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ پہنچی آئی ایس ایف نے سوال کیا کہ ’’کیا الیکشن کمیشن نے کسی دوسری پارٹی کو یہ انتخابی نشان دیتے وقت اپنے اختیارات کا صحیح اور مناسب استعمال کیا تھا؟‘‘ اسی پر عدالت نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 17 ستمبر کو ٹی ایم سی کے دونوں گروپوں کو مغربی بنگال کے نندی گرام اور ریجی نگر اسمبلی حلقوں میں 6 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں پارٹی کا نام اور ’جوڑا پھول‘ انتخابی نشان استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ آئی ایس ایف کے وکیل وکاس بھٹاچاریہ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دے کہ وہ کسی ایسے انتخاب میں کسی دیگر رجسٹرڈ پارٹی کو ’لفافہ‘ انتخابی نشان الاٹ نہ کرے، جسمیں دونوں پارٹیاں انتخاب لڑ رہی ہوں۔ قابل ذکر ہے کہ نندی گرام اور ریجی نگر اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخاب 6 اکتوبر کو ہونے والے ہیں، جبکہ انتخابی مہم 4 اکتوبر کو ختم ہوگی۔ آئی اے ایس ایف نے نندی گرام میں اپنا امیدوار اتارا ہے۔

Share this story

WhatsAppXFacebook