مختصر جواب
جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن نے جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں اوسط 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا اطلاق یکم ستمبر 2026 سے ہوگا۔
اہم نکات
- کمیشن نے بجلی نرخوں میں اوسط 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دی
- نظرثانی شدہ نرخ یکم ستمبر 2026 سے نافذ ہوں گے
- کے پی ڈی سی ایل اور جے پی ڈی سی ایل نے 5 فیصد اضافے کی درخواست کی تھی
- اضافے کے بعد بھی 502 کروڑ روپے کا محصولاتی خسارہ باقی رہے گا
- حکومت نے دفعہ 65 کے تحت 2,420.78 کروڑ روپے سبسڈی دینے کا عہد کیا ہے
جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (JERC) نے جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں اوسط 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ نظرثانی شدہ نرخ یکم ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہوں گے۔
کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (KPDCL) اور جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (JPDCL) نے کمیشن سے 5 فیصد اضافے کی درخواست کی تھی۔ کمیشن نے دونوں کمپنیوں کی درخواست سے 1.83 فیصد پوائنٹ زیادہ اضافے کی منظوری دی۔
کمیشن نے جس 6.83 فیصد کی منظوری دی ہے وہ اوسط اضافہ ہے، جس کا اطلاق جموں و کشمیر بھر کے صارفین پر ہوگا۔
اضافے کے باوجود محصولات میں 502 کروڑ روپے کا خسارہ باقی رہے گا۔
جموں و کشمیر حکومت نے الیکٹریسٹی ایکٹ 2003 کی دفعہ 65 کے تحت 2,420.78 کروڑ روپے کی سبسڈی دینے کا عہد کیا ہے۔
نرخوں میں اضافے کی منظوری 22 اور 23 اگست کو دی گئی اور اسی دوران اس کی اطلاع سامنے آئی۔
فیصلے پر سیاسی جماعتوں اور تجارتی حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
Demo content compiled 2026-08-24 from published reports. Replace before launch.

