مختصر جواب
فاروق عبداللہ کے پاکستان سے متعلق بیان نے سیاسی تنازع کھڑا کر دیا ہے، جس پر بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے سخت تنقید کی ہے۔
اہم نکات
- فاروق عبداللہ نے 24 اکتوبر کو بارہمولہ میں ایک کنونشن سے خطاب کیا۔
- انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر اٹھا کر جموں و کشمیر کے لوگوں کی حفاظت کر رہا ہے۔
- فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت کی نیت پر بھی سوالات اٹھائے۔
- بی جے پی سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے ان کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔
- بی جے پی رہنماؤں نے فاروق عبداللہ سے عوامی معافی کا مطالبہ کیا۔
- بی جے پی نے جموں و کشمیر میں امن کو پاکستان کی حمایت سے جوڑنے کو غلط قرار دیا۔
فاروق عبداللہ کا پاکستان سے متعلق بیان، بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں کی شدید تنقید سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے پاکستان سے متعلق بیان نے سیاسی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ 24 اکتوبر کو بارہمولہ میں پارٹی کارکنوں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ پاکستان عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر اٹھا کر جموں و کشمیر کے لوگوں کی حفاظت کر رہا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی نیت پر بھی سوالات اٹھائے۔ فاروق عبداللہ کے اس بیان پر بی جے پی سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور ان سے عوامی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی رہنماؤں نے پاکستان کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں امن و سلامتی کو پاکستان کی حمایت سے جوڑنا درست نہیں ہے۔

