مختصر جواب
پرینکا گاندھی نے بی جے پی کو الیکشن کمیشن کے فیصلوں اور مبینہ دھاندلی پر تنقید کا نشانہ بنایا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ 13 کروڑ ووٹرز کے نام حذف کر دیے گئے ہیں اور اسے 'ملک سے غداری' قرار دیا۔
اہم نکات
- پرینکا گاندھی نے الیکشن کمیشن کے تنازعہ پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
- انہوں نے دعویٰ کیا کہ 13 کروڑ ووٹرز کے نام حذف کر دیے گئے ہیں۔
- پرینکا گاندھی نے بی جے پی کے اقدامات کو 'ملک سے غداری' قرار دیا۔
- راہل گاندھی نے پریس کانفرنسوں میں الزامات کے حقائق اور ثبوت پیش کیے ہیں۔
- سنجے راوت نے کہا کہ راہل گاندھی نے گیانیش کمار کو سرکاری گواہ بننے کا موقع دیا ہے۔
- ایک رپورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے فیصلوں اور تنازعات کو لے کر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان الزامات و جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعہ کو کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے بھی اس معاملے میں اپنا سخت رخ ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے پاس لگائے گئے الزامات کے حقائق اور ثبوت موجود ہیں، جنہیں راہل گاندھی کئی پریس کانفرنسوں میں عوام کے سامنے پیش کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ 13 کروڑ ووٹرز کے نام حذف کر دیے گئے ہیں، جو کہ سنگین معاملہ ہے۔۔
پرینکا گاندھی نے جمعہ کو صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’معاف کیجیے، یہ بہت پرانی اور کمزور کہانی ہے۔ اس کے لیے حقائق اور ثبوت موجود ہیں۔ پورا ملک اسے دیکھ سکتا ہے۔ میرے بھائی (راہل گاندھی) نے کئی پریس کانفرنسوں میں اسے دکھایا ہے۔ انہوں نے ثبوت سب کے سامنے رکھے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’اب یہ بات بالکل واضح ہے... 13 کروڑ ووٹرز کے نام ہٹا دیے گئے ہیں۔ یہ ایک بے تکا بہانہ ہے۔ بی جے پی کو ایسے بے تکے بہانے بنانا بند کر دینا چاہیے۔‘‘
پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’اگر وہ (بی جے پی والے) ہمارے انتخابات میں مداخلت کر رہے ہیں، اور اگر ان کی قیادت الیکشن کمیشن سے ایسا کروا رہی ہے، تو یہ ملک سے غداری جیسا کام ہے۔ انہیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے۔ وہ غیر قانونی کام کر رہے ہیں۔ وہ کتنے برسوں سے انتخابات میں دھاندلی کر رہے ہیں؟ ظاہر ہے، وہ ہر وقت بہت زیادہ پراعتماد رہتے ہیں۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کانگریس اس کے خلاف کسی احتجاج کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، تو انہوں نے کہا کہ ’’میرے خیال میں کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی ایک میٹنگ ہونے والی ہے، جس کے لیے مجھے واپس جانا ہے۔ اسی میٹنگ میں طے کیا جائے گا کہ آگے کیا قدم اٹھائے جائیں گے۔‘‘
دوسری طرف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر راہل گاندھی کے تبصرے کے بارے میں شیوسینا (یو بی ٹی) رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ ’’راہل گاندھی کا مزاج بہت معاف کرنے والا ہے۔ وہ قومی مفاد میں ان لوگوں کو معاف کرنا چاہتے ہیں جو تمام غلط کاموں کے ذمہ دار ہیں۔ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے احکامات پر الیکشن کمیشن نے ووٹوں کی چوری کی۔ الیکشن کمیشن اس میں شامل ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’راہل گاندھی نے گیانیش کمار کو سرکاری گواہ بننے اور ان تمام لوگوں کے نام بتانے کا موقع دیا ہے، جنہوں نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ 2029 میں اس ملک میں نئی حکومت بنے گی اور ذمہ دار لوگ جیل جائیں گے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی، جس نے ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ اس رپورٹ میں الیکشن کمیشن کے کام کاج اور فیصلے لینے کے عمل کو لے کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2 الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران 14 مرتبہ اعتراض درج کرایا۔ گویا کہ دونوں الیکشن کمشنرز کے اعتراضات پر چیف الیکشن کمشنر نے کوئی توجہ نہیں دی اور مبینہ طور پر منمانی والے انداز میں فیصلے لیتے رہے۔ اس رپورٹ کے بعد کانگریس نے پوری طرح سے جارحانہ رخ اختیار کر لیا ہے، اور اب سڑکوں پر اتر کر احتجاج درج کرانے کی تیاری ہے۔

