مختصر جواب
بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر سامنے آئی ہے کیونکہ ایک اعلیٰ سرحدی افسر نے اروناچل پردیش میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان آمنے سامنے کی صورتحال برقرار رہنے کا انکشاف کیا ہے۔
اہم نکات
- انڈو تبتین بارڈر پولیس (ITBP) کے ڈائریکٹر جنرل نے سرحدی کشیدگی کا انکشاف کیا۔
- اروناچل پردیش کی سرحد پر بھارتی اور چینی فوجیوں کے درمیان آمنے سامنے کی صورتحال برقرار ہے۔
- وزارت خارجہ نے چینی فوج کی جانب سے طے شدہ گشت کے طریقہ کار سے انحراف کو صورتحال کی خرابی کی وجہ قرار دیا۔
- کانگریس نے مرکزی حکومت سے سرحدی صورتحال کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
- دونوں ممالک سفارتی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن سرحدی کشیدگی نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری کے درمیان سرحدی افسر کے بیان سے نیا تنازع کھڑا
نئی دہلی: بھارت اور چین کے درمیان تعلقات معمول پر لانے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کے دوران ایک اعلیٰ سرحدی افسر کے بیان نے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کا معاملہ ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے۔
انڈو تبتین بارڈر پولیس (ITBP) کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے انکشاف کیا ہے کہ اروناچل پردیش کی سرحد پر کئی مقامات پر بھارتی اور چینی فوجیوں کے درمیان آمنے سامنے کی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔
اس بیان کے بعد وزارت خارجہ نے بھی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر چینی فوج کی جانب سے طے شدہ گشت کے طریقہ کار سے انحراف کے باعث وقتاً فوقتاً صورتحال خراب ہوتی رہتی ہے۔
دوسری جانب کانگریس نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحدی صورتحال کے بارے میں پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو مکمل تفصیلات فراہم کرے۔
قابل ذکر ہے کہ دونوں ممالک حالیہ عرصے میں سفارتی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اروناچل پردیش میں سرحدی کشیدگی کے انکشاف نے ان کوششوں کے سامنے نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

