مختصر جواب
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کے اندرونی اختلافات کے پیش نظر استعفے کی پیشکش کی، لیکن ناراض اراکین اسمبلی نے اسے مسترد کر دیا۔
اہم نکات
- عمر عبداللہ نے ناراض اراکین اسمبلی کو استعفے کی پیشکش کی۔
- ناراض اراکین نے استعفے کی پیشکش مسترد کر دی۔
- اجلاس میں کابینہ میں ردوبدل پر بات چیت ہوئی۔
- فاروق عبداللہ نے اراکین کو مطالبات پر غور کی یقین دہانی کرائی۔
- اجلاس تقریباً 2 گھنٹے تک جاری رہا۔
سرینگر: نیشنل کانفرنس میں اندرونی اختلافات کے درمیان وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے استعفے کی پیشکش کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کو گپکار میں پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ناراض اراکین اسمبلی کے درمیان تقریباً دو گھنٹے تک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر اراکین کو ان کی قیادت پر اعتماد نہیں تو وہ عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں اور کوئی دوسرا رکن وزارتِ اعلیٰ کی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے۔ تاہم ناراض اراکین نے استعفے کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا مقصد وزیر اعلیٰ کو ہٹانا نہیں بلکہ پارٹی اور حکومت کے اندر اپنے مسائل حل کروانا ہے۔
اجلاس میں کابینہ میں ردوبدل، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی کے کردار اور اراکین اسمبلی کو اعتماد میں لینے سمیت مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فاروق عبداللہ نے اراکین کو یقین دلایا کہ ان کے جائز مطالبات پر غور کیا جائے گا۔

