مختصر جواب
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ووٹر انتخابی حلف نامے میں غلط معلومات دینے یا حقائق چھپانے والے امیدوار کے خلاف الیکشن کمیشن کی پیشگی اجازت کے بغیر مجسٹریٹ کی عدالت میں فوجداری شکایت درج کرا سکتا ہے۔
اہم نکات
- سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ووٹر الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر امیدوار کے خلاف فوجداری شکایت درج کرا سکتا ہے۔
- یہ شکایت انتخابی حلف نامے میں غلط معلومات دینے یا حقائق چھپانے پر کی جا سکتی ہے۔
- عدالت نے عوامی نمائندگی قانون 1951 کی دفعہ 125A کی تشریح کی۔
- جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔
- اس فیصلے سے انتخابی امیدواروں کے حلف ناموں کی شفافیت اور جواب دہی میں اضافہ ہوگا۔
- شکایت درج ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ امیدوار قصوروار ثابت ہو گیا ہے۔
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، ووٹر الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر امیدوار کے خلاف فوجداری شکایت درج کرا سکے گا نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی شہری یا ووٹر انتخابی حلف نامے میں غلط معلومات دینے یا اہم حقائق چھپانے والے امیدوار کے خلاف الیکشن کمیشن کی پیشگی اجازت کے بغیر مجسٹریٹ کی عدالت میں فوجداری شکایت درج کرا سکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ عوامی نمائندگی قانون 1951 کی دفعہ 125A کے تحت ایسے معاملات میں نجی شکایت دائر کرنے پر قانونی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ یہ فیصلہ جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ نے سنایا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے انتخابی امیدواروں کے حلف ناموں میں درج معلومات کی شفافیت اور جواب دہی سے متعلق قانونی صورتِ حال مزید واضح ہوئی ہے۔ تاہم، شکایت درج ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ امیدوار قصوروار ثابت ہوگیا؛ عدالت شکایت اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔

