مختصر جواب
راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن اور ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) سے پوچھا ہے کہ فارم-6 میں غیر قانونی تبدیلی کا حکم کس نے دیا اور ٹی سی ایس میں اسے کس نے منظور کیا۔ یہ سوالات ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان سامنے آئے ہیں۔
اہم نکات
- راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر پوسٹ میں فارم-6 میں غیر قانونی تبدیلی کا ذکر کیا۔
- انہوں نے پوچھا کہ الیکشن کمیشن میں کس نے ٹی سی ایس کو تبدیلی کا حکم دیا۔
- راہل نے یہ بھی پوچھا کہ ٹی سی ایس میں اس کی منظوری کس نے دی اور کیا دباؤ ڈالا گیا تھا۔
- جئے رام رمیش نے سابق چیف الیکشن کمشنر او پی راوت کے انٹرویو کا حوالہ دیا۔
- او پی راوت کے مطابق، 14 کروڑ ووٹرز اپنے حق رائے دہی سے محروم ہوئے ہیں۔
- جئے رام رمیش نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ساکھ تباہ کر دی گئی ہے۔
ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگی کے خلاف اپوزیشن لیڈران لگاتار آواز اٹھا رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی دن بہ دن زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اب تو انڈیا اتحاد نے اس معاملہ میں باضابطہ طور پر یکجہتی کے ساتھ مارچ نکالنے اور صدر جمہوریہ سے ملاقات کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کر دیا ہے۔ اس تعلق سے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی سب سے زیادہ آواز اٹھا رہے ہیں۔ انھوں نے آج بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کی ہے، جس میں ایک نیا سوال سامنے رکھ دیا ہے۔ اس نئے سوال سے ایک نئی ہلچل کی سرگوشی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’آن لائن فارم 6 میں غیر قانونی طور پر تبدیلی کی گئی ہے، جیسا کہ خود الیکشن کمیشن کے کمشنرز نے ریکارڈ میں ظاہر کیا ہے۔‘‘ یہ لکھنے کے بعد وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’’الیکشن کمیشن آف انڈیا میں کس نے ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کو یہ تبدیلی کرنے کا حکم دیا؟‘‘ ساتھ ہی یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ’’ٹی سی ایس میں اس معاملہ پر کس نے منظوری دی؟ اور کیا انہیں ایسا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا؟‘‘ راہل گاندھی نے ’فارم-6‘ معاملہ میں یہ نیا سوال کیا ہے، جو کہ ٹاٹا کنسلٹنسی سے جڑا ہوا ہے۔
اس درمیان کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے بھی ’ایس آئی آر‘ معاملہ پر ایک پوسٹ جاری کی ہے۔ انھوں نے انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ میں شائع سابق چیف الیکشن کمشنر او پی راوت کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’سابق چیف الیکشن کمشنر او پی راوت نے ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی خلاف ورزیوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق آزادی کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اہل ووٹرز اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہوئے ہیں۔‘‘ کانگریس لیڈر نے اس بات پر شدید افسوس ظاہر کیا کہ ایس آئی آر کے ذریعہ اب تک تقریباً 14 کروڑ ووٹرز اپنے حق رائے دہی سے محروم کیے جا چکے ہیں۔
اس سوشل میڈیا پوسٹ میں جئے رام رمیش نے آگے لکھا ہے کہ ’’ہندوستان کا الیکشن کمیشن پہلے ’سونے جیسا خالص‘ سمجھا جاتا تھا، لیکن اس کی ساکھ تباہ کر دی گئی ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے سابق چیف الیکشن کمشنر او پی راوت کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں دونوں الیکشن کمشنرز کو چیف الیکشن کمشنر کے غیر قانونی فیصلوں کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہیے تھے۔
موجودہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپنی شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ ’’انتخابی نظام پر قبضہ کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا شور اب بلند تر ہوتا جا رہا ہے۔ شہری اب کسی بھی شکل میں ووٹ چوری کو برداشت نہیں کریں گے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’انڈیا اتحاد آئین اور ہماری جمہوریت کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘

