Surat Hal Logo

کیا فلائی دبئی طیارے پر حملے کی سازش نیتن یاہو اور شیخ محمد کی تھی؟

ایران کے بیان نے نئی ہلچل مچا دی، ٹرمپ کی سخت کارروائی کی دھمکی

ایک سفید ہوائی جہاز جس پر "flydubai" لکھا ہوا ہے، رن وے پر کھڑا ہے۔
فلائی دبئی طیارے پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں، جس میں کئی ممالک ملوث ہیں۔

مختصر جواب

ایران کے میڈیا کے مطابق، اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان پر فلائی دبئی طیارے کو یرغمال بنانے کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اہم نکات

  • ایران نے فلائی دبئی طیارے پر حملے کی سازش میں نیتن یاہو اور شیخ محمد کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
  • اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی پوزیشن مضبوط کرنا اور ایران کے خلاف کارروائی کا جواز بنانا مبینہ مقصد تھا۔
  • امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے اگر اس کا تعلق طیارے کے شریک پائلٹ سے نکلا۔
  • 30 ستمبر کو متحدہ عرب امارات سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں عمانی شریک پائلٹ نے ہندوستانی پائلٹ پر حملہ کیا تھا۔
  • طیارے میں 182 افراد سوار تھے، جن میں بیشتر اسرائیلی شہری تھے، اور طیارے کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔
  • اسرائیلی وزیر اعظم نے عمانی شریک پائلٹ کو اسلامی انتہا پسندانہ نظریے سے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

’فلائی دبئی‘ ایئرلائنز کے طیارہ کو یرغمال بنانے کی مبینہ کوشش سرخیوں میں ہے۔ اب اس بارے میں ایران کی جانب سے ایک ایسا بیان سامنے آیا ہے، جس نے عالمی سطح پر نئی ہلچل شروع کر دی ہے۔ ایرانی میڈیا ’پریس ٹی وی‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس پورے واقعہ کے پیچھے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کی مبینہ سازش ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مبینہ منصوبے کا مقصد نیتن یاہو پر حماس حملے کے بارے میں بڑھتے سوالات سے توجہ ہٹانا، 27 اکتوبر کے اسرائیلی انتخابات سے قبل ان کی پوزیشن مضبوط کرنا اور ایران کے خلاف نئی کارروائی کا جواز تیار کرنا ہو سکتا ہے۔

یہ الزام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر فلائی دبئی طیارے کے شریک پائلٹ اور ایران کے درمیان کوئی تعلق سامنے آتا ہے تو ایران کے خلاف بہت سخت کارروائی کی جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے اور انہیں ملنے والی معلومات کی بنیاد پر ایران کا کردار ہو سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیلی معلومات نہیں دی۔

قابل ذکر ہے کہ 30 ستمبر کو متحدہ عرب امارات سے تل ابیب جا رہی فِلائی دبئی کی پرواز میں عمانی شریک پائلٹ نے مبینہ طور پر ہندوستانی پائلٹ کیپٹن اسمت مچھار پر چاقو سے حملہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد طیارہ تیزی سے نیچے گرنے لگا۔ طیارے میں موجود مسافروں اور عملے کے دیگر اراکین نے کاک پٹ میں پہنچ کر شریک پائلٹ کو پکڑا اور طیارے کو مستحکم کرنے میں مدد کی۔ اس کے بعد طیارے کی سعودی عرب کے تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔

طیارے میں عملہ کے اراکین سمیت مجموعی طور پر 182 افراد سوار تھے، جن میں بیشتر اسرائیلی شہری تھے۔ ہندوستانی پائلٹ کیپٹن اسمت ماچھر اس حملے میں بری طرح زخمی ہوئے جن کا ابوظبی میں علاج جاری ہے۔ تحقیقات میں شامل حکام کے مطابق فی الحال دہشت گردی سے لے کر دیگر ممکنہ وجوہات تک تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی خفیہ اور سیکورٹی حکام سعودی عرب میں تحقیقات میں مدد کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے شریک پائلٹ کو پوچھ گچھ کے لیے اپنے ملک بھیجنے کی درخواست بھی کی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی اپنی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کہا ہے کہ وہ یہ معلوم کرے گا کہ حملے کا کسی دہشت گردانہ مقصد سے تعلق تھا یا نہیں۔

اس درمیان اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ عمانی شریک پائلٹ کو اسلامی انتہا پسندانہ نظریے سے متاثر کیا گیا تھا۔ تاہم، جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں یہ معلومات کیسے حاصل ہوئیں تو ان کے دفتر نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ ایران کے کردار کو لے کر نیتن یاہو نے بھی کہا کہ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

Share this story

WhatsAppXFacebook