مختصر جواب
پرینکا گاندھی نے الیکشن کمیشن سے متعلق ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کو جمہوریت کے لیے انتہائی سنگین معاملہ قرار دیا ہے، کیونکہ ان کے مطابق اگر انتخابات منصفانہ نہیں ہیں تو یہ ملک کے ساتھ غداری ہے۔
اہم نکات
- پرینکا گاندھی نے الیکشن کمیشن کی رپورٹ کو جمہوریت کے لیے انتہائی سنگین معاملہ قرار دیا۔
- راہل گاندھی مسلسل الیکشن کمیشن کی جانبداری کا معاملہ اٹھاتے رہے ہیں۔
- الیکشن کمشنرز نے گیانیش کمار کو اپنی تشویشات سے آگاہ کیا ہے۔
- ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کو یرغمال بنایا ہے۔
- سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن ایک اکثریت والا ادارہ ہے جہاں تمام کمشنرز برابر ہیں۔
- راہل گاندھی نے بی جے پی، آر ایس ایس اور انتخابی کمیشن پر ملک سے غداری کا الزام لگایا ہے۔
یہ ہماری جمہوریت کے لیے انتہائی سنگین معاملہ ہے: پرینکا گاندھی کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے الیکشن کمیشن سے متعلق ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ پر کسی بھی طرح کی حیرانی ظاہر نہیں کی۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے بھائی راہل گاندھی جی مسلسل الیکشن کمیشن کے ذریعہ کی جا رہی جانبداری اور ناانصافی کے معاملے کو اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کئی مسائل کو سامنے لایا ہے اور اب خود الیکشن کمشنرز نے ان تشویشات سے گیانیش کمار جی کو آگاہ کیا ہے۔‘‘ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’جو کچھ بھی سامنے آیا ہے، وہ جمہوریت کے لیے انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ اگر انتخابات ہی نہیں ہوں گے تو پھر جمہوریت کہاں ہوگی؟‘‘
پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’اگر انتخابات منصفانہ نہیں ہیں اور کسی بھی طرح ان میں دھاندلی کی جا رہی ہے، اور الیکشن کمیشن اس میں مدد کر رہا ہے، اور اگر خود الیکشن کمشنرز نہ صرف اس سے واقف ہیں بلکہ اسے ہونے دے رہے ہیں، تو یہ جمہوریت پر انتہائی سنگین حملہ ہے۔‘‘ میڈیا اہلکاروں سے وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’یہ ملک کے ساتھ غداری ہے۔ اس کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے اور ایک غیر جانبدار ادارے کے ذریعہ اس کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہیے۔‘‘
چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کو یرغمال بنایا: ابھشیک منو سنگھوی ایس آئی آر معاملہ پر ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ نے سیاسی ہلچل بڑھا دی ہے۔ کانگریس اس معاملہ میں الیکشن کمیشن، خصوصاً چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر حملہ آور دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر ابھشیک منو سنگھوی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’1995 میں سپریم کورٹ نے صاف کر دیا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک اکثریت والا ادارہ ہے۔ بہت وقت پہلے ایک قانونی سوال اٹھا تھا کہ کیا الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر سب سے بالاتر ہے اور الیکشن کمشنرز برابر کا حق نہیں رکھتے؟ اس کا واضح جواب دیا گیا تھا کہ سبھی الیکشن کمشنرز برابر ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی)، الیکشن کمشنرز کے اوپر نہیں ہیں، بلکہ برابر والوں میں اول ہیں۔‘‘ اس تشریح کے بعد انھوں نے میڈیا کے سامنے کہا کہ ’’ایسے میں آج کے انکشاف سے واضح ہوتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے صرف ملک کے آئینی اقدار پر حملہ نہیں کیا، انھوں نے الیکشن کمیشن کر یرغمال بنا کر اپنے ساتھیوں کو بھی گمراہ کیا ہے۔‘‘
بی جے پی، آر ایس ایس اور انتخابی کمیشن نے مل کر ملک سے غداری کا کام کیا ہے: راہل گاندھی کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے انتخابی کمیشن سے متعلق ’انڈین ایکسپریس‘ کے انکشاف پر اپنا سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر انھوں نے ایک پوسٹ جاری کیا ہے جس میں ’ووٹ چوری‘ کو ہندوستانی عوام کے خلاف جرم اور آئین پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی، آر ایس ایس اور انتخابی کمیشن نے مل کر اسے انجام دیا ہے۔ تینوں نے ملک سے غداری کا کام کیا ہے۔

