Surat Hal Logo

امریکہ نے 20 ممالک کو نایاب بیماریوں کی دواؤں پر ٹیرف سے استثنیٰ دیا

ہندوستان سمیت 20 ممالک کو مخصوص دواؤں اور ان کے اجزاء پر کوئی ٹیرف نہیں لگے گا۔

مختلف رنگوں اور سائز کی گولیاں اور کیپسول ہوا میں تیر رہے ہیں۔
امریکی کامرس ڈپارٹمنٹ نے 20 ممالک کو مخصوص دواؤں پر ٹیرف سے استثنیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔

مختصر جواب

ہندوستان سمیت 20 ممالک کو امریکہ نے نایاب بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی مخصوص دواؤں اور ان کے اجزاء پر ٹیرف سے استثنیٰ دیا ہے، جس سے ان مصنوعات پر صفر فیصد ٹیرف لاگو ہوگا۔

اہم نکات

  • امریکی کامرس ڈپارٹمنٹ نے 20 ممالک کو مخصوص دواؤں پر ٹیرف سے استثنیٰ دیا ہے۔
  • ان دواؤں کا استعمال نایاب بیماریوں کے علاج میں ہوتا ہے۔
  • ہندوستان بھی ان 20 ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔
  • یہ فیصلہ 29 ستمبر سے نافذ ہونے والے 100 فیصد ٹیرف سے قبل کیا گیا ہے۔
  • صفر فیصد ٹیرف سنگین بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی مصنوعات پر لاگو ہوگا۔
  • ان دواؤں کے اہم اجزاء کو بھی ٹیرف رعایت میں شامل کیا گیا ہے۔

امریکی ٹیرف کے حوالے سے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ ’امریکی کامرس ڈپارٹمنٹ‘ کے ذریعہ جاری اطلاع کے مطابق امریکہ ہندوستان سمیت 20 ممالک سے درآمد کی جانے والی کچھ مخصوص دواؤں اور اس سے متعلق انگریڈینٹس (مواد) پر کوئی ایڈ ویلورم (قیمت پر مبنی) ٹیرف عائد نہیں کرے گا۔ ان دواؤں کا استعمال نایاب بیماریوں کے علاج میں کیا جاتا ہے۔ ’امریکی کامرس ڈپارٹمنٹ‘ نے فیڈرل رجسٹر میں ان ممالک کی فہرست جاری کی ہے، جنہیں ان مخصوص دواؤں کے لیے صفر ٹیرف کی سہولت فراہم کرائی جائے گی۔ ہندوستان کے علاوہ اس فہرست میں ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، یورپی یونین، گوئٹے مالا، انڈونیشیا، جاپان، اردن، ملائیشیا، شمالی مقدونیہ، جنوبی کوریا، سوئٹزرلینڈ، لیکٹنسٹائن، تائیوان، تھائی لینڈ، برطانیہ اور ویتنام شامل ہیں۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان مقامات سے آنے والی اہل مصنوعات پر صفر فیصد ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، کیونکہ امریکہ کے ساتھ ان کے موجودہ یا مستقبل کے ٹریڈ اور سیکورٹی فریم ورک ایگریمنٹ ہیں۔ ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن کے مطابق ’ایڈ ویلورم‘ ٹیرف، ٹیکس عائد ہونے والے سامان کی مانیٹری ویلیو کا ایک مقررہ فیصد ہوتا ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے، جب واشنگٹن 29 ستمبر سے کچھ پیٹنٹیڈ فارماسیوٹیکل امپورٹ اور ان سے متعلق انگریڈینٹس پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے ارادے سے 2 اپریل کو ایک منشور جاری کیا تھا۔ اس کے تحت ٹریڈ ایکسپینشن ایکٹ کی دفعہ 232 کے تحت پیٹنٹ حاصل شدہ دواؤں، بایولوجکس اور ان سے متعلق انگریڈینٹس پر 100 فیصد تک کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔

کچھ کمپنیوں کے لیے یہ ٹیکس 31 جولائی سے نافذ بھی ہو چکا ہے، اور باقی کمپنیوں پر یہ ٹیکس 29 ستمبر سے نافذ ہو رہا ہے۔ لیکن فیڈرل رجسٹر میں شائع تازہ فہرست کے مطابق ہندوستان جیسے اہم شراکت دار ممالک سے درآمد شدہ اہم طبی فارمولیشنز کو اس 100 فیصد ٹیکس سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صفر فیصد ٹیرف کی شرح ان پروڈکٹس پر نافذ ہوگی، جن کا استعمال سنگین بیماریوں کے علاج، جیسے بانجھ پن کے علاج، سیل تھراپی، جین تھراپی، اینٹی باڈی-ڈرگ کنجوگیٹس اور جانوروں کی دواؤں میں ہوتا ہے۔ ان خصوصی دواؤں کی تیاری میں استعمال ہونے والے اہم کمپونینٹس کو بھی اس ٹیرف رعایت کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔

Share this story

WhatsAppXFacebook