Surat Hal Logo

اجین میں شاہی مسجد تنازعہ: کمیٹی نے خود ہٹایا حصہ، 15 گرفتار، 5 انفلوئنسرز پر مقدمہ

اجین میں سڑک کی توسیع کے دوران شاہی مسجد کے حصہ کو ہٹانے پر ہنگامہ، اب حالات بہتر۔

فسادات کے دوران پولیس اہلکار سڑک پر کھڑے ہیں، پس منظر میں دھواں اور تباہ شدہ عمارتیں ہیں۔
اجین میں سڑک کی توسیع کے لیے شاہی مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کے دوران پیش آنے والے ہنگامے اور اس کے بعد کی صورتحال پر رپورٹ۔

مختصر جواب

اجین میں شاہی مسجد کا حصہ سڑک کی توسیع کے لیے ہٹایا جا رہا ہے، جس کے دوران پتھراؤ اور ہنگامہ ہوا، جس کے بعد 15 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 5 سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ مسجد کمیٹی نے خود ہی رضامندی سے تعمیر کا حصہ ہٹایا ہے۔

اہم نکات

  • اجین میں سڑک کی توسیع کے لیے شاہی مسجد کا ایک حصہ ہٹایا جا رہا ہے۔
  • مسجد کمیٹی نے باہمی رضامندی سے خود ہی تعمیر کا حصہ ہٹایا ہے۔
  • پیر کو پتھراؤ کے بعد پولیس نے ہلکی طاقت اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
  • اب تک 15 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور 5 سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر مقدمہ درج ہے۔
  • انتظامیہ نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے اور افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی ہے۔

مدھیہ پردیش کے اجین میں سڑک کی توسیع کے لیے شاہی مسجد کے ایک چھوٹے حصہ کو ہٹائے جانے کے دوران پیر کے روز زبردست ہنگامہ ہوا تھا۔ بھیڑ نے پولیس پر پتھراؤ کر دیا، جس نے علاقہ میں کشیدگی بڑھا دی تھی، لیکن اب حالات بہتر ہیں۔ گزشتہ روز حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس نے ہلکی طاقت کا استعمال کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ اس معاملہ میں اب تک 15 افراد کی گرفتاری ہو چکی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 5 سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ مسجد کمیٹی خود ہی شاہی مسجد کا مخصوص حصہ توڑ رہی ہے۔ منگل کی صبح بھی مسجد نمائندہ کمیٹی کے اراکین باہمی رضامندی سے خود ہی دوبارہ تعمیر کا کچھ حصہ ہٹانے میں مصروف نظر آئے۔

قابل ذکر ہے کہ کنٹھال سے گوپال مندر جانے والے راستے کی سڑک کو چوڑا کرنے کے منصوبے کے تحت چھتری چوک واقع شاہی مسجد کی تعمیر کا کچھ حصہ ہٹایا جا رہا ہے۔ سڑک کی توسیع کا کام متاثر نہ ہو، اس کے لیے مسجد کے نیچے چلنے والی 8 سے 10 دکانوں کو بھی پیر کی دیر شب خالی کرا لیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سڑک کو چوڑا کرنے کے لیے ضروری حصے کو ہٹانے پر کمیٹی کے اراکین کی رضامندی تھی

انتظامیہ کے مطابق پیر کے روز مسجد کمیٹی کی جانب سے پُرامن طریقے سے تعمیر کا کچھ حصہ ہٹائے جانے کے باوجود سوشل میڈیا پر گمراہ کن ریلز اور ویڈیوز نشر ہونے لگیں۔ ان میں دعویٰ کیا گیا کہ انتظامیہ بلڈوزر کے ذریعہ مسجد کو منہدم کر رہی ہے۔ ان افواہوں کے بعد ٹنکی چوک اور انڈا گلی کے علاقے سے لوگوں کی بھیڑ مسجد کی جانب بڑھنے لگی۔ موقع پر موجود سیکورٹی فورسز نے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی۔ اسی دوران کچھ شرپسند عناصر نے پولیس پر پتھراؤ کر دیا۔ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس نے ہلکی طاقت کا استعمال کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔

تنازعہ کے دوران شہر قاضی خلیق الرحمٰن نے لوگوں سے سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی افواہوں پر توجہ نہ دینے اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ پولیس کے مطابق اپیل کے باوجود 50 سے زائد افراد کی بھیڑ نے تیلی واڑہ روڈ پر واقع شہر قاضی کے گھر پر پتھراؤ کر دیا۔ یہ خبر ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور بھیڑ کو وہاں سے ہٹایا۔ اس کے بعد علاقے میں سیکورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے اور پولیس نے ہنگامہ آرائی میں شامل افراد کی شناخت کا عمل شروع کر دیا۔

پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعے مبینہ طور پر گمراہ کن ویڈیوز اور افواہیں پھیلانے کے معاملے میں 5 سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف کھارا کوان تھانے میں مقدمہ درج کیا ہے۔ ان میں ساجد خان، عمران خان، گلریز خان، بلو پٹھان اور عارف پٹھان شامل ہیں۔ پولیس کا الزام ہے کہ ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ایسی ویڈیوز نشر کی گئیں، جن سے لوگوں کے درمیان غلط فہمی اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا۔ پتھراؤ واقعہ کے سلسلے میں کھارا کوان، کوتوالی اور مہاکال تھانے کی پولیس نے کارروائی کی ہے۔ پولیس نے بلال، تالو ہیلا، سلیم، ندیم، توفیق، شاکر، شہنواز، ارشد دیوان، التمش، ارباز اور وسیم منصوری سمیت 15 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سبھی کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے جانچ کی جا رہی ہے۔

اس درمیان اجین کے کلکٹر روشن کمار سنگھ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسجد کمیٹی اور متعلقہ افراد نے شہر کی ترقی اور سڑک کی توسیع کے لیے باہمی رضامندی سے تعمیر کا کچھ حصہ ہٹانے کی پہل کی ہے۔ انہوں نے عام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی گمراہ کن خبروں اور افواہوں پر بھروسہ نہ کریں۔ انتظامیہ نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے اور امن و قانون کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔

Share this story

WhatsAppXFacebook