Surat Hal Logo

ملک میں 94 ہزار سے زائد سرکاری اسکول بند، لاکھوں طلباء کی تعلیم متاثر

نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق، 2014 سے 2024 کے درمیان ہزاروں اسکول بند یا ضم کیے گئے۔

اسکول کے طلباء ماسک پہنے سڑک پر چل رہے ہیں۔
ملک میں سرکاری اسکولوں کی بندش سے لاکھوں طلباء کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔

مختصر جواب

2014 سے 2024 کے درمیان ملک کے تقریباً 94 ہزار سرکاری اسکول بند یا ضم کر دیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں طلباء کی تعلیم متاثر ہوئی ہے اور درمیان میں پڑھائی چھوڑنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

اہم نکات

  • 2014 سے 2024 کے درمیان ملک میں تقریباً 94 ہزار سرکاری اسکول بند یا ضم کیے گئے۔
  • اتر پردیش میں گزشتہ 10 برسوں میں تقریباً 22,438 سرکاری اسکول بند ہوئے، جبکہ مدھیہ پردیش میں 29,410 اسکول بند ہوئے۔
  • سرکاری اسکولوں کے بند ہونے سے تقریباً 65.7 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہوئے، جن میں 30 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔
  • ملک بھر میں اساتذہ کے تقریباً 10 لاکھ عہدے خالی پڑے ہیں، جن میں اتر پردیش میں 81 ہزار سے زیادہ اور مدھیہ پردیش میں 52,019 سے زیادہ شامل ہیں۔
  • اسکولوں کی بندش کی وجوہات میں طلباء کی تعداد میں کمی، نقل مکانی، اور نجی اسکولوں کی طرف بڑھتا رجحان شامل ہیں۔
  • حکومت تعلیم کو مشترکہ فہرست میں ہونے کی وجہ سے ریاستوں کو زیادہ ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

سے 2024 کے درمیان ہمارے ملک کے تقریباً 94 ہزار سرکاری اسکول یا تو پوری طرح بند کر دیے گئے ہیں یا پھر انہیں کسی قریبی اسکول میں ضم کر دیا گیا ہے۔ یہ جانکاری ’نیتی آیوگ‘ کی ایک رپورٹ سے ملتی ہے۔ اسی طرح پارلیمنٹ میں پیش کی گئی مرکزی وزارت تعلیم کی رپورٹ کے مطابق اتر پردیش میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران تقریباً 22,438 سرکاری اسکول بند ہو چکے ہیں۔

جو معلومات فراہم کی گئی ہیں، ان کے مطابق مدھیہ پردیش میں 29,410 اسکول بند ہوئے ہیں۔ یہ تعداد اتر پردیش جیسی بڑی ریاست میں بند ہونے والے 25,126 اسکولوں سے کہیں زیادہ اور تشویش ناک ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں بند ہونے والے سرکاری اسکولوں کی مجموعی تعداد ملک میں بند ہوئے اسکولوں کی کل تعداد کے 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ دیگر ریاستوں کا بھی یہی حال ہے۔ جموں و کشمیر میں سرکاری اسکولوں کی تعداد 15-2014 میں 23,874 تھی، جو 21.4 فیصد گھٹ کر 18,758 رہ گئی۔ اڈیشہ میں یہ تعداد 58,697 سے 17.1 فیصد کم ہو کر 48,671، اروناچل پردیش میں 3,408 سے 16.4 فیصد گھٹ کر 2,847، اتر پردیش میں 1,62,228 سے 15.5 فیصد کم ہو کر 1,37,102، جھارکھنڈ میں 41,322 سے 13.4 فیصد گھٹ کر 35,795، ناگالینڈ میں 2,279 سے 14.4 فیصد کم ہو کر 1,952، گوا میں 12.9 فیصد گھٹ کر 906 سے 789 اور اتراکھنڈ میں 8.7 فیصد کم ہو کر 17,753 سے 16,201 رہ گئی ہے۔ مہاراشٹر میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 850 اسکول بند ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ حکومت پر دو ہزار اسکول بند کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔

یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ جب دنیا میں کہیں ایک اسکول کھلتا ہے تو کسی دوسری جگہ ایک جیل بند ہو جاتی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ملک میں 94 ہزار سے بھی زیادہ جیلوں کے کھلنے کا راستہ تیار کر دیا ہے؟ یعنی اتنی جیلیں، یا ان سے کئی گنا زیادہ جرائم اور مجرم پیدا کرنے کا گناہ بھی کر ڈالا ہے۔

سرکاری اسکولوں کے بند ہونے سے لاکھوں طلبا کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ بڑے اسکولوں میں چھوٹے اسکولوں کو ضم کرنے کی وجہ سے طلبا کو اپنے گھروں سے پانچ سے 8 کلومیٹر دور واقع دوسرے سرکاری اسکولوں میں منتقل ہونا پڑا ہے۔ اس کے نتیجے میں پرائمری اسکولوں کے بہت سے بچوں کی تعلیم ہی ختم ہو گئی ہے اور درمیان میں ہی پڑھائی چھوڑ دینے کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ وہیں کم عمری میں ہی بچوں کے کام کرنے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

سرکاری اسکولوں کے بند ہونے کا سب سے زیادہ منفی اثر لڑکیوں پر پڑا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں تقریباً 30 لاکھ لڑکیاں اسکول چھوڑنے پر مجبور ہوئیں، جبکہ مجموعی طور پر 65.7 لاکھ بچے اپنی تعلیم جاری رکھنے سے محروم ہو گئے۔ سب سے زیادہ خراب صورت حال گجرات میں رہی، جہاں 2025 میں درمیان ہی میں اسکول چھوڑنے والوں کی تعداد 33 فیصد رہی۔ اس کا اثر درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور معاشی طور پر کمزور طبقوں پر بھی پڑا ہے۔ سرکاری اسکول بچوں کو مناسب غذائیت فراہم کرنے کے لیے دوپہر کے کھانے جیسی ضروری سماجی خدمات بھی دیتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی بندش سے غذائی قلت کی شرح میں تیزی سے اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

راجیہ سبھا رکن جان بریٹاس کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 65 ہزار سے زیادہ سرکاری اسکولوں میں اب 10 سے بھی کم طلبا رہ گئے ہیں۔ وہیں 5 اسکولوں میں طلبا کی تعداد صفر رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کنٹریکٹ پر کام کرنے والے اساتذہ کی خدمات ختم کر دی گئیں اور ان کے سامنے روزگار کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ حق تعلیم قانون کی دفعہ 6 کے مطابق حکومت اور مقامی حکام کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے گھروں سے ایک مقررہ فاصلے کے اندر اسکول قائم کریں۔ اس سے پہلے نومبر 2023 میں نیتی آیوگ نے ایک رپورٹ میں اسکولوں کے انضمام، اساتذہ کی تعداد میں اضافے، اساتذہ کی تعلیم میں بہتری اور سیکھنے کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات اپنانے کی سفارش کی تھی۔ اس کے باوجود ان سفارشات پر عمل درآمد کے معاملے میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے

ایک طرف سرکاری اسکولوں کی بندش کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری طرف موجودہ اسکولوں کی ضروریات پوری کرنے والے اساتذہ کے لاکھوں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے معاملے میں حکومت کی شدید بے حسی دکھائی دے رہی ہے۔ 26-2025 کی تازہ ترین صورت حال کے مطابق اساتذہ کے تقریباً 10 لاکھ عہدے خالی پڑے ہیں۔ پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رپورٹ اور وزارت تعلیم سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق، مرکزی حکومت کے زیر انتظام پرائمری اور ایلیمنٹری اسکولوں میں تقریباً 9 لاکھ عہدے، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں تقریباً 1.1 لاکھ سے 4 لاکھ عہدے خالی پڑے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت کے تحت چلنے والے کیندریہ ودیالیوں میں تقریباً 13.1 فیصد اور نوودیہ ودیالیوں میں تقریباً 24.8 فیصد تدریسی عہدے خالی ہیں۔

اب ذرا ریاستوں کی صورت حال بھی دیکھ لی جائے۔ ملک کی 5 بڑی ریاستوں اتر پردیش، مدھیہ پردیش، بہار، کرناٹک اور راجستھان میں اساتذہ کے سب سے زیادہ عہدے خالی پڑے ہیں۔ اتر پردیش میں 81 ہزار سے زیادہ عہدے خالی ہیں، جن میں تقریباً 77,400 عہدے پرائمری سطح کے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں 52,019 سے زیادہ عہدے خالی ہیں۔ سی اے جی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ درحقیقت ایک لاکھ سے زیادہ عہدے خالی پڑے ہیں۔ اسی طرح جھارکھنڈ کے پرائمری اسکولوں میں تقریباً 80 ہزار سے زیادہ، بہار میں پرائمری اور سیکنڈری سطح پر 70 ہزار سے زیادہ اور کرناٹک میں 65 ہزار سے زیادہ عہدے خالی ہیں۔

سرکاری اسکولوں کے بند ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً طلبا کی تعداد میں کمی، دیہی علاقوں سے نقل مکانی اور شرح پیدائش میں تبدیلی، اسکولوں کی تعداد کو معقول بنانا اور ان کا انضمام، قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت وسائل کے بہتر استعمال کے نام پر کم طلبا والے اسکولوں کو قریبی بڑے اسکولوں میں ضم کرنا، بنیادی ڈھانچے اور اساتذہ کی کمی، تعلیم کے لیے سرکاری بجٹ اور عوامی اخراجات میں تعلیم کے حصے میں کمی، اور انگریزی ذریعہ تعلیم نیز سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں بہتر سہولیات والے نجی اسکولوں کی طرف والدین کا بڑھتا ہوا رجحان وغیرہ۔

ان تمام صورت حال کے لیے بالآخر حکومت ہی ذمہ دار ہے۔ لیکن جب بھی حکومت سے سوال کیا جاتا ہے تو اس کا ایک معصوم سا جواب ہوتا ہے کہ تعلیم کو مشترکہ فہرست میں رکھا گیا ہے، اس لیے اس معاملے میں ریاستوں کی ذمہ داری ہی زیادہ ہے۔

Share this story

WhatsAppXFacebook