Surat Hal Logo

امریکہ اور ایران کے درمیان قطر کی ثالثی ناکام، فریقین اپنی شرطوں پر بضد

اعلیٰ سطحی میٹنگ بے نتیجہ رہی، دونوں ممالک کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا

امریکی اور ایرانی جھنڈے کے درمیان ایک شگاف ہے، جس میں سے آگ اور دھواں نکل رہا ہے۔
قطر کی ثالثی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بے نتیجہ رہیں۔

مختصر جواب

قطر کی ثالثی امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ دونوں ممالک اپنے مطالبات پر بضد ہیں اور کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ اس ناکامی کے بعد خطے میں جنگ کا خطرہ ایک بار پھر بڑھ گیا ہے، اور امریکی حکام وسط مدتی انتخابات کے بعد فوجی کارروائیوں کا امکان دیکھ رہے ہیں۔

اہم نکات

  • قطر کی ثالثی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی میٹنگ بے نتیجہ رہی۔
  • فریقین اپنے مطالبات پر قائم رہے اور کوئی بھی جھکنے کو تیار نہیں ہوا۔
  • امریکی افسران کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد فوجی کارروائیوں کا حکم دے سکتے ہیں۔
  • پیر کو قطر کے ثالث علی الثوادی نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔
  • علی الثوادی نے واشنگٹن میں ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر اور دیگر امریکی حکام سے بھی ملاقات کی۔
  • ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر واضح کیا کہ انہوں نے ایران کو کوئی پیشکش نہیں کی ہے۔

امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے قطر کی ثالثی ایک بار پھر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اس ہفتے اعلی سطحی میٹنگ میں دونوں ممالک کے درمیان کسی محاذ پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ میٹنگ سے وابستہ اہم تین ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین اپنی اپنی ضد پر قائم رہے اور کوئی بھی جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین جاری اختلافات کی وجہ سے ایک بار پھر جنگ تیز ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ امریکی افسران کا ماننا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخاب کے بعد بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کا حکم دے سکتے ہیں۔ حالانکہ اس ناکامی کے باوجود قطر نے اپنی کوششیں پوری طرح بند نہیں کی ہیں، لیکن فریقین کے ضدی رویے کی وجہ سے قطری ثالث بھی مایوس ہو رہے ہیں۔

پیر کے روز قطر کے اہم ثالث علی الثوادی نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کی پوری ٹیم کے ساتھ کئی گھنٹوں تک طویل مذاکرات کیا۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے دوران قطر کی جانب سے پیش کیے گئے دو صفحات پر مشتمل معاہدے کی تجویز پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اس کا مقصد ایران کے اس مطالبے کا حل تلاش کرنا تھا، جس میں وہ امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس میں امریکہ کا وہ مطالبہ بھی شامل تھا، جس میں ایران سے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

پیر کی شام علی الثوادی واشنگٹن پہنچے، جہاں انہوں نے ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر اور دیگر امریکی حکام کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات کے ایک مختصر حصے میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہوئے تھے۔ حالانکہ وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پیر کی صبح وائٹ ہاؤس پورے عمل کے تعلق سے مثبت تھا۔ امریکی افسران نے ایکسیوس سمیت کئی میڈیا اداروں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ بات چیت انتہائی مثبت اور تخلیقی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کا دعویٰ تھا کہ ایران نے جوہری معاملات پر مناسب رویہ اختیار کرنے کے اشارے دیے ہیں۔ یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے مناسب قدم اٹھاتا ہے، تو ٹرمپ پابندیوں کو ہٹانے اور ایران کے منجمد کیے گئے فنڈ کو جاری کرنے کے لیے تیار ہے۔

لیکن کچھ ہی گھنٹوں کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر پوسٹ کرکے وضاحت کردی کہ انہوں نے ایران کو کوئی بھی آفر نہیں دیا ہے۔ اس پوسٹ کی وجہ سے مذاکرات کا رخ تبدیل ہو گیا۔ اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کے روز ہونے والے اس مذاکرے میں کوئی بھی بامعنی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ایرانی فریق ایسے مطالبے کر رہے ہیں، جسے امریکہ کبھی قبول نہیں کر سکتا، جبکہ امریکہ کو لگتا ہے کہ وہ جنگ جیت رہا ہے، اس لیے اسے کسی بھی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس دوران پاکستان اور مصر سمیت خطے کے دیگر ثالث ممالک نے بھی ایران پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے جوہری پروگراموں میں کچھ رعایتیں دے۔ حالانکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس پر تب ہی غور کرے گا، جب امریکہ گزشتہ برس جون کے ’ایم او یو‘ پر رضامند ہوگا۔

ایران کی ’سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل‘ کے سکریٹری محسن رضائی نے منگل کے روز ایرانی پریس سے بات چیت میں کہا کہ ایران نے اپنی شرائط امریکہ تک پہنچا دی ہیں، لیکن ٹرمپ کوئی بھی فیصلہ لینے سے قاصر ہیں۔ رضائی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ایسے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں وہ نہ تو ٹھیک سے بات چیت کر پا رہے ہیں اور نہ ہی جنگ لڑنے کی حالت میں ہیں۔ ادھر ٹرمپ نے منگل کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران بہت خراب حالت میں ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ ایران ابھی ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔ یہ سب ایک جوہری ہتھیار کو روکنے کے لیے ہے اور ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔ ایسے میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارت کاری کا راستہ انتہائی مشکل ہونے والا ہے۔

Share this story

WhatsAppXFacebook